Masarrat
Masarrat Urdu

تمام فیصلے رہبر معظم کی زیرنگرانی ہوں گے، صدر پزشکیان

Thumb

تہران، 25 مئی (مسرت ڈاٹ کام) ایرانی صدر نے کہا ہے کہ ملک کو ذاتی پسند یا انفرادی نظریات کے بجائے قومی اتفاقِ رائے اور تمام فیصلے رہبر معظم کی حکمت عملی اور اجازت کے عین مطابق ہوں گے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے دشمن کے مقابلے میں قومی اتحاد پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بحرانوں اور خطرات کے دوران ملک کا سب سے بڑا سرمایہ وحدت اور قومی انسجام ہے۔ تاریخ نے ثابت کیا ہے کہ حساس مراحل میں عوام کی ہمبستگی اور نظام کے مختلف ارکان کی ہم‌آہنگی ہی ملک کی ثبات و پایداری کی ضامن رہی ہے۔

انہوں نے مذاکرات کے موضوع کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ رهبر شہید نے کبھی بھی عزت‌مند، بااقتدار اور قومی مفادات کے دائرے میں ہونے والے مذاکرات کی مخالفت نہیں کی۔ ان کی رہبرِ معظم کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں میں ہمیشہ یہ بات نمایاں رہی ہے کہ ملک کی عزت، حکمت اور مصلحت ہر فیصلے کا محور ہے۔

صدر پزشکیان نے واضح کیا کہ اسلامی جمہوری ایران میں کوئی فیصلہ نیشنل سیکورٹی کونسل اور رهبرِ معظم انقلاب کی اجازت اور ہم‌آہنگی کے بغیر نہیں کیا جائے گا، اور جب بھی سفارت کاری کے میدان میں کوئی فیصلہ ہو جائے، تو تمام اداروں، تریبونوں اور سیاسی جریانوں کو اس کی حمایت کرنی چاہیے تاکہ بیرونی دنیا تک ایران کا ایک متحد اور منسجم موقف پہنچے۔

پزشکیان نے کہا کہ ہمارا سہارا صرف خدا اور عوام ہیں، اس لیے عوام کی حمایت کو برقرار رکھنے کے لیے ہر قسم کے تقسیم سے گریز کرنا ہوگا۔ محض مختلف نظر رکھنے والا ہر فرد، لازمی طور پر اسلامی انقلاب یا ملک کا مخالف نہیں ہوتا۔ زندہ معاشرہ وہ ہے جو مختلف آرا کو برداشت کرے اور اختلافات کو ٹکراؤ میں نہ بدلنے دے۔

صدر نے مزید کہا کہ مختلف طبقات اور گروہوں نے ہمیشہ نظام اور ملک کی حمایت کے میدانوں میں بھرپور شرکت کی ہے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ “وہی خواتین جو آج شاید ظاہری حجاب کے اعتبار سے مختلف نظر آتی ہیں، ملک اور انقلاب کے دفاع کے لئے میدان میں موجود ہیں۔

Ads