Masarrat
Masarrat Urdu

دھرمندر پردھان نے سی بی ایس ای پورٹل میں تکنیکی خرابیوں کے حل کے لیے آئی آئی ٹی ماہرین کو ہدایات دیں

Thumb

نئی دہلی، 24 مئی (مسرت ڈاٹ کام) مرکزی وزیر تعلیم دھرمندر پردھان نے انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی (آئی آئی ٹی مدراس) اور انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی (آئی آئی ٹی کانپور) کے تکنیکی ماہرین کو سینٹرل بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن (سی بی ایس ای) کے پوسٹ رزلٹ سروسز پورٹل میں پیش آنے والی تکنیکی خرابیوں کو دور کرنے میں مدد فراہم کرنے کی ہدایت دی ہے۔

یہ قدم طلبہ اور والدین کی جانب سے موصول ہونے والی شکایات کے بعد اٹھایا گیا، جن میں امتحانات کے بعد فراہم کی جانے والی خدمات، جیسے جانچی گئی جوابی کاپیوں کی اسکین شدہ نقول حاصل کرنے اور دوبارہ جانچ (ری ایویلیوایشن) کے لیے درخواست دینے کے دوران پورٹل میں تکنیکی مسائل کی نشاندہی کی گئی تھی۔

اتوار کو جاری ایک سرکاری بیان کے مطابق دونوں ممتاز اداروں کی ماہر ٹیمیں سی بی ایس ای کے ساتھ مل کر پورٹل کے تکنیکی ڈھانچے کو مضبوط بنانے پر کام کریں گی۔

ان ٹیموں کو پورٹل کے استحکام، سرور کی کارکردگی، تصدیقی نظام (آتھنٹیکیشن سسٹم)، صارفین کی رسائی کے طریقہ کار، ادائیگی کے نظام (پیمنٹ گیٹ وے) اور بورڈ کے مجموعی آئی ٹی انفراسٹرکچر کی مضبوطی کا جائزہ لینے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔

یہ ٹیمیں آن لائن خدمات کی ہموار فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے اصلاحی اقدامات کی سفارش بھی کریں گی۔

طلبہ کی فلاح و بہبود کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے دھرمندر پردھان نے سی بی ایس ای کو ہدایت دی کہ شفاف، مؤثر اور طلبہ دوست دوبارہ جانچ کے نظام کو برقرار رکھنے کے لیے تمام ضروری اقدامات ترجیحی بنیادوں پر کیے جائیں۔

اس دوران سی بی ایس ای نے اتوار کو اعلان کیا کہ 21 اور 22 مئی کو تکنیکی خرابیوں کے باعث جن طلبہ سے غلط فیس وصول کی گئی، انہیں رقم واپس کر دی جائے گی۔

بورڈ نے بتایا کہ جوابی کاپیوں کی اسکین شدہ نقول کے لیے درخواست دیتے وقت بعض امیدواروں سے یا تو زائد فیس وصول کی گئی یا کم رقم کاٹی گئی۔
بورڈ نے واضح کیا کہ جن معاملات میں اضافی رقم کاٹی گئی تھی، وہ خودکار طریقے سے اسی ذریعے واپس کر دی جائے گی جس سے ادائیگی کی گئی تھی۔
جبکہ جن طلبہ سے مقررہ رقم سے کم فیس وصول ہوئی، انہیں باقی ادائیگی کے حوالے سے علیحدہ اطلاع دی جائے گی۔
سی بی ایس ای نے یہ بھی واضح کیا کہ متاثرہ طلبہ کو دوبارہ درخواست دینے کی ضرورت نہیں ہوگی اور انہیں اسکین شدہ جوابی کاپیاں فراہم کر دی جائیں گی۔
بورڈ نے طلبہ اور والدین کو یقین دلایا کہ جانچ اور اسکین شدہ جوابی کاپیوں سے متعلق تمام حقیقی خدشات کا جائزہ ماہرین کے قائم کردہ جائزہ نظام کے ذریعے لیا جائے گا۔
شفافیت اور انصاف پسندی کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے سی بی ایس ای نے امیدواروں سے گھبرانے کی ضرورت نہ ہونے کی اپیل کی اور یقین دہانی کرائی کہ جائز شکایات کا مناسب حل نکالا جائے گا۔
مشکلات کا سامنا کرنے والے طلبہ کی سہولت کے لیے بورڈ نے اسکین شدہ جوابی کاپیوں کے لیے درخواست دینے کی آخری تاریخ 24 مئی تک بڑھا دی ہے۔

 

 

Ads