Masarrat
Masarrat Urdu

ایندھن کی قیمتوں میں آٹھ دنوں میں تین بار اضافہ حکومت میں قیادت کے بحران کی نشاندہی کرتا ہے: کھرگے

Thumb

نئی دہلی، 23 مئی (مسرت ڈاٹ کام) کانگریس صدر ملک ارجن کھرگے نے آٹھ دنوں میں تیسری بار پٹرول کی قیمت میں اضافے پر حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ صورتحال کو دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت میں قیادت کا بحران پیدا ہو گیا ہے، جس کی وجہ سے بار بار ایندھن کی قیمتیں بڑھائی جا رہی ہیں۔

مسٹر کھرگے نے ہفتہ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ بین الاقوامی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں کم رہنے کے دوران حکومت نے عوام کو کوئی راحت نہیں دی، بلکہ پیٹرولیم مصنوعات پر بھاری ٹیکس عائد کرکے لوگوں پر بوجھ ڈالا۔ انہوں نے کہا کہ اب بحرانی صورتحال میں بھی حکومت عام لوگوں کو ریلیف دینے کے بجائے مسلسل ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ کر رہی ہے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ پٹرول اور ڈیزل پر روزانہ تقریباً 1000 کروڑ روپے کا مرکزی ٹیکس وصول کیا گیا، لیکن جب عالمی سطح پر قیمتیں کم تھیں تو اس کا فائدہ عوام تک نہیں پہنچایا گیا۔

کانگریس صدر نے کہا کہ مغربی ایشیا میں کشیدگی بڑھنے کے دوران اٹلی، آسٹریلیا، جرمنی، برطانیہ اور آئرلینڈ جیسے ممالک نے اپنی عوام کو ریلیف دینے کے لیے ایندھن پر ٹیکس میں کمی یا امدادی پیکیج دیے، جبکہ ہندوستان میں اس کے برعکس اقدامات کیے گئے۔

انہوں نے کہا کہ اٹلی نے ایندھن پر ایکسائز ڈیوٹی میں کمی کی، آسٹریلیا اور جرمنی نے ٹیکس کم کرکے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں راحت دی، برطانیہ نے گھروں کو تیل امداد اور ایندھن و بجلی پر ٹیکس میں نرمی دی، جبکہ آئرلینڈ نے امدادی پیکیج کے ذریعے ایندھن کی قیمتوں میں کمی کی۔

کانگریس صدر نے وزیر اعظم نریندر مودی سے سوال کیا کہ وہ بتائیں کہ “اس لوٹ کی قسط کس کس کو جا رہی ہے”، اور الزام لگایا کہ حکومت میں “قیادت کا بحران” حقیقی ہے، جسے اب ملک کی عوام سمجھنے لگی ہے۔

 

Ads