صنعا، 23 مئی (مسرت ڈاٹ کام) انصار اللہ کے سربراہ نے کہا ہے کہ مغرب اور خطے میں اس کے اتحادی فرقہ واریت اور تفرقہ بازی کے ذریعے مسلمانوں کو تقسیم کر کے ان کے وسائل پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق انصار اللہ یمن کے سربراہ سید عبدالملک بدرالدین الحوثی نے یمن کے شمالی اور جنوبی حصوں کے انضمام کی سالگرہ کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ دشمن کی جانب سے خطے میں رچائی جانے والی سازشیں اب زوال کی طرف گامزن ہیں۔
تفصیلات کے مطابق، المسیرہ کے حوالے سے سید عبدالملک الحوثی نے واضح کیا کہ یمن کا اتحاد ایک عظیم قومی کامیابی اور حق ہے، جس کی حفاظت کرنا ہر یمنی شہری کا فریضہ ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ غیر ملکی مداخلت، ذاتی مفادات اور فرقہ وارانہ تعصبات اس اتحاد کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہیں۔
یمنی رہنما نے سعودی عرب پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ریاض کی پالیسیاں مکمل طور پر واشنگٹن اور لندن کے زیر اثر ہیں۔ سعودی عرب یمن کے قدرتی وسائل خاص طور پر الجوف، مأرب اور المہرہ کے تیل کے ذخائر کی کھدائی میں رکاوٹیں کھڑی کر رہا ہے تاکہ یمن معاشی طور پر خود کفیل نہ ہوسکے اور بیرونی طاقتوں کا محتاج رہے۔
سید عبدالملک الحوثی نے اس بات پر زور دیا کہ دشمن یمن کو خوراک، ادویات اور بنیادی ضروریات کے لیے خود پر انحصار کرنے پر مجبور کر کے دباؤ ڈالنا چاہتا ہے۔ انہوں نے یمنی عوام سے اپیل کی کہ وہ معاشی خود انحصاری حاصل کریں اور بیرونی امداد کے جال سے نکل کر اپنی ملکی پیداوار پر توجہ دیں، کیونکہ بیرونی انحصار درحقیقت غلامی کا دوسرا نام ہے۔
اپنے خطاب میں انہوں نے واضح کیا کہ خطے میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کا عمل دراصل امت مسلمہ کے مفادات کو صیہونی دشمن کے حوالے کرنے کی ایک سازش ہے، جسے بیدار مسلمان کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔
