Masarrat
Masarrat Urdu

سپریم کورٹ نے 'عدلیہ میں بدعنوانی کا باب' تیار کرنے والے ماہرین تعلیم سے پابندیاں ہٹائیں

Thumb

نئی دہلی، 22 مئی (مسرت ڈاٹ کام) سپریم کورٹ نے جمعہ کو اپنے اس پرانے حکم کو واپس لے لیا ہے، جس کے تحت عدلیہ میں بدعنوانی پر نیشنل کونسل آف ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ ٹریننگ (این سی ای آر ٹی) کی آٹھویں جماعت کے متنازع درسی مواد کی تیاری میں شامل تین ماہرین تعلیم پر پابندی لگائی گئی تھی۔

اس پابندی کے تحت ان ماہرین تعلیم کو مرکزی اور ریاستی یونیورسٹیوں کے ساتھ ساتھ سرکاری تعلیمی اداروں کے پروجیکٹوں میں شامل ہونے سے روک دیا گیا تھا۔ عدالت نے اب واضح کیا ہے کہ مرکزی اور ریاستی حکومتیں ان ماہرین تعلیم کو ایسے پروجیکٹوں سے جوڑنے کے لیے آزاد ہیں اور اس پر وہ خود آزادانہ طور پر فیصلہ کر سکتی ہیں۔

اس کے ساتھ ہی عدالت نے 11 مارچ کے اپنے حکم میں کیئے گئے منفی ریمارکس کو بھی ہٹا دیا ہے۔ اس حکم میں عدالت نے کہا تھا کہ ان تینوں ماہرین تعلیم نے آٹھویں جماعت کے طلبہ کے سامنے عدلیہ کا منفی تاثر پیش کرنے کے لیے جان بوجھ کر اور سوچے سمجھے طریقے سے حقائق کو غلط طریقے سے پیش کیا تھا۔

چیف جسٹس سوریہ کانت، مسٹر جسٹس جویمالیہ باگچی اور مسٹر جسٹس وپل پنچولی کی بنچ نے تینوں ماہرین تعلیم پروفیسر مشیل ڈینینو، سپرنا دیواکر اور آلوک پرسنا کمار کی جانب سے دائر درخواستوں پر غور کرنے کے بعد یہ نیا حکم جاری کیا۔

قابل ذکر ہے کہ عدالت عدلیہ میں بدعنوانی اور عدالتی تاخیر سے جڑے اس باب پر از خود نوٹس لے کر سماعت کر رہی تھی۔ اس سے پہلے فروری میں عدالت نے اس باب والی درسی کتابوں پر مکمل پابندی لگانے اور اس مواد کو فوری طور پر ہٹانے کی ہدایت دی تھی۔

 

Ads