مسٹر کیجریوال نے کہا کہ مسٹر سنگلا کو اس لیے گرفتار نہیں کیا گیا کہ انہوں نے کوئی غلط کام کیا ہے بلکہ اس لیے گرفتار کیا ہے کیونکہ وہ بی جے پی کے خلاف کام کر رہے تھے اور بی جے پی میں شامل ہونے سے منع کر دیا تھا۔ دہلی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف آتشی نے کہا کہ آج ملک میں نیٹ کا پیپر لیک ہو رہا ہے، پٹرول، ڈیزل اور سی این جی کے دام روز بڑھ رہے ہیں، روپیہ ڈالر کے سامنے گرتا جا رہا ہے، لیکن وزیراعظم نریندر مودی کو صرف ایک کام ہےـ اپوزیشن کے رہنماؤں پر جھوٹے مقدمات لگانا اور انہیں گرفتار کرنا۔ ای ڈی نے ”عآپ“ رہنما دیپک سنگلا کو گرفتار کیا ہے کیونکہ وہ گوا میں بی جے پی کے خلاف لڑنے والی ایک تنظیم تیار کر رہے تھے۔ میرا وزیراعظم سے کہنا ہے کہ آپ چاہے ہماری پارٹی کے کتنے بھی رہنماؤں کو گرفتار کریں، ہم ملک کے مفاد کے لیے کام کرتے رہیں گے۔
انہوں نے کہا کہ پورے ملک نے دیکھا کہ بنگال اسمبلی انتخابات میں بی جے پی نے ای ڈی کا استعمال ترنمول کانگریس کے خلاف کیا تھا۔ انتخاب لڑانے والی ایجنسی ’آئی پیک‘ میں کام کرنے والے لوگوں کو جیل بھیج دیا گیا اور انتخابات سے ٹھیک پہلے ترنمول کانگریس کا سارا ڈیٹا ای ڈی کے ذریعے چوری کر لیا گیا۔ جیسے ہی انتخابات ختم ہوئے، ویسے ہی ان تمام لوگوں کو جیل سے رہا کر دیا گیا۔ محترمہ آتشی نے کہا کہ یہاں گوا میں صرف بڑے رہنماؤں پر ہی نہیں، بلکہ کئی عام کارکنوں کے گھروں پر بھی چھاپے ماری چل رہی ہے۔ ایک عام کارکن یا تنظیم کے انچارج پر یہ چھاپے ماری صرف اور صرف ان کا انتخابی ڈیٹا چوری کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ ٹھیک ویسے ہی، جیسے ای ڈی نے بنگال میں ترنمول کے ساتھ کیا تھاـ سارا ڈیٹا چوری کر کے بھاجپا کو سونپ دیا، وہی کھیل آج گوا میں دہرایا جا رہا ہے۔
”عآپ“ کے سینئر رہنما اور پنجاب انچارج منیش سسودیا نے ایکس پر کہا کہ ای ڈی، سی بی آئی اور الیکشن کمیشن جیسے اداروں کو اپنے پرسنل غنڈوں کی طرح استعمال کر کے وزیراعظم اپوزیشن کے رہنماؤں کو الیکشن جیتنے سے روک سکتے ہیں، لیکن ملک کی معیشت کو، روپے کی گرتی ہوئی عزت کو نہیں سنبھال سکتے۔ عآپ رہنما سوربھ بھاردواج نے کہا کہ مسٹر دیپک سنگلا کے گھر پر ای ڈی نے دہلی اور گوا میں کئی مقامات پر چھاپے ماری کی۔ ای ڈی، سی بی آئی اور اے سی بی عآپ کے رہنماؤں کو لگاتار ہراساں کر رہی ہیں۔
