ہندوستان نے اس سلسلے میں اپنے پہلے کے موقف کو دہراتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے اس نام نہاد عدالت کو کبھی تسلیم نہیں کیا ہے، اس لیے اس کی طرف سے سنائے گئے فیصلے غیر قانونی ہیں۔ ہندوستان نے زور دے کر کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کو معطل رکھنے کا اس کا فیصلہ اب بھی برقرار ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے اس نام نہاد عدالت کے فیصلے سے متعلق میڈیا کے سوالات کے جواب میں ہفتہ کو کہا کہ غیر قانونی طور پر تشکیل دی گئی نام نہاد کورٹ آف آربیٹریشن نے 15 مئی کو ایک "فیصلہ" دیا ہے، جسے اس نے سندھ طاس معاہدے کی عمومی تشریح کے مسائل پر پہلے جاری کیے گئے فیصلے کے ضمیمے کے طور پر "زیادہ سے زیادہ آبی ذخائر" (میکسیمم ریزروائر) سے متعلق بتایا ہے۔
انہوں نے کہا، "ہندوستان اس نام نہاد فیصلے کو مکمل طور پر مسترد کرتا ہے، ٹھیک اسی طرح جیسے اس نے غیر قانونی طور پر تشکیل دی گئی ثالثی عدالت کے تمام سابقہ اعلانات کو مضبوطی سے مسترد کیا ہے۔ ہندوستان نے کبھی بھی اس نام نہاد عدالت کے قیام کو تسلیم نہیں کیا ہے۔ اس کے ذریعہ جاری کی گئی کوئی بھی کارروائی یا فیصلہ غیر قانونی ہے۔ ہندوستان کا سندھ طاس معاہدے کو معطل رکھنے کا فیصلہ اب بھی نافذ ہے۔" ہندوستان نے گزشتہ سال مئی میں پہلگام میں دہشت گردانہ حملے کے بعد سخت قدم اٹھاتے ہوئے اس معاہدے کو 'معطل' کر دیا تھا۔ ہندوستان نے واضح طور پر کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ اس وقت تک معطل رہے گا جب تک کہ پاکستان سرحد پار دہشت گردی کو مکمل اور معتبر طریقے سے ختم نہیں کر دیتا۔ ہندوستان کا کہنا ہے کہ دہشت گردی اور بات چیت ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔
