نئی دہلی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عباس عراقچی نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں رکاوٹوں کا ذمہ دار ایران نہیں ہے اور ایران کے خلاف جنگ میں ملوث ممالک کے علاوہ یہ بحری گزرگاہ سب کیلئے کھلی ہے۔
انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے کیلئے ایران کو اعتماد میں لینا ضروری ہو گا۔
ایرانی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ ایران کبھی ایٹمی ہتھیار نہیں بنانا چاہتا اور اس کا جوہری پروگرام صرف پُرامن مقاصد کیلئے ہے۔
عباس عراقچی کے مطابق ایران کے مسئلے کا حل صرف بات چیت میں ہے، تاہم تہران کو امریکہ پر کوئی بھروسہ نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران ہر قسم کے دباؤ اور کارروائی کے خلاف بھرپور مزاحمت کرے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ 40 روزہ جنگ کے باوجود امریکہ ایران کے خلاف اپنے مقاصد حاصل نہیں کر سکا، جس کے بعد واشنگٹن نے دوبارہ مذاکرات کی بات کی۔
عباس عراقچی نے کہا کہ ایران کے پاس امریکہ پر اعتماد کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں ہے۔
ایرانی وزیرِ خارجہ کے مطابق ایران کے کسی بھی معاملے کا عسکری حل ممکن نہیں جبکہ ملک کئی برسوں سے امریکی پابندیوں کا سامنا کر رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی قوم صرف عزت کی زبان سمجھتی ہے اور امریکہ کے ساتھ کسی بھی ممکنہ معاہدے سے پہلے تمام معاملات واضح ہونا ضروری ہیں۔
