برکس ممالک کے وزرائے خارجہ کی ہندوستان کی صدارت میں دو روزہ میٹنگ کے اختتام پر جاری کردہ دستاویز میں کہا گیا ہے کہ اراکین نے عالمی اور علاقائی اہم مسائل پر تفصیلی غور و خوض کیا۔ انہوں نے سیاسی اور سکیورٹی، اقتصادی اور مالیاتی، ثقافتی اور عوامی رابطوں کے تین ستونوں کے تحت برکس اسٹریٹجک شراکت داری کے ڈھانچے کو مضبوط کرنے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے باہمی احترام اور سمجھ بوجھ، مساوات، یکجہتی، کشادگی، شمولیت اور اتفاق رائے کے برکس جذبے کے تئیں بھی اپنے عزم کو دہرایا۔ وزارت خارجہ میں سکریٹری (اقتصادی تعلقات) سدھاکر دلیلا نے بعد میں پریس کانفرنس میں سوالوں کے جواب میں کہا کہ میٹنگ کے نتائج کے بارے میں مناسب دستاویز جاری کی گئی ہے جو تمام اراکین کے مشترکہ نقطہ نظر کی عکاسی کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ برکس سربراہ اجلاس کے لیے ایک اچھا پس منظر فراہم کرے گی اور امید ہے کہ سربراہ اجلاس کے دوران اتفاق رائے کی راہ ہموار کرے گی ۔
دستاویز کے مطابق وزراء نے ہندوستان کی برکس صدارت کے لیے مکمل حمایت کا اظہار کیا، جس کا موضوع ہے: "لچک، اختراع، تعاون اور استحکام کے لیے تعمیر"۔ انہوں نے کہا کہ برکس اراکین کے درمیان تعاون مشترکہ چیلنجوں کو متوازن اور جامع طریقے سے حل کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ برکس کی 20 ویں سالگرہ کے موقع پر، وزراء نے عالمی نظم و نسق (گلوبل گورننس) میں اصلاحات، اسے مزید منصفانہ، مساویانہ ، چست، مؤثر، قابل، جوابدہ، نمائندہ، جائز، جمہوری اور ذمہ دار بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے وسیع مشاورت، مشترکہ شراکت اور مشترکہ فائدے کے جذبے کے ساتھ ایک مضبوط، جامع اور متوازن کثیر جہتی بین الاقوامی نظام کو فروغ دینے پر زور دیا۔ رکن ممالک نے کثیر جہتی اور کثیر قطبی نظام کو مضبوط کرنے اور بین الاقوامی قانون، خاص طور پر اقوام متحدہ کے چارٹر کے مقاصد اور اصولوں پر مکمل عمل درآمد کرنے کے عزم کو دہرایا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک لازمی بنیاد ہے اور اس میں اقوام متحدہ کا مرکزی کردار ہے، جس میں خود مختار ریاستیں تعاون کر کے امن و سلامتی برقرار رکھتی ہیں، پائیدار ترقی کو فروغ دیتی ہیں، جمہوریت، انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں کا تحفظ کرتی ہیں، اور مساوات، انصاف اور باہمی احترام کی بنیاد پر تعاون کو فروغ دیتی ہیں۔
وزراء نے یکطرفہ دباؤ ڈالنے والے اقدامات کی مذمت کی جو بین الاقوامی قانون کے منافی ہیں، اور اس بات کو دہرایا کہ ایسے اقدامات، خاص طور پر یکطرفہ اقتصادی پابندیاں اور ثانوی پابندیاں، نشانہ بنائے گئے ممالک کی عام آبادی کے انسانی حقوق، بشمول ترقی، صحت اور غذائی تحفظ کے حقوق پر دور رس منفی اثرات مرتب کرتے ہیں۔ یہ اقدامات غریب اور حساس حالات میں رہنے والے لوگوں کو غیر متناسب طور پر متاثر کرتے ہیں، ڈیجیٹل فرق کو مزید بڑھاتے ہیں اور ماحولیاتی چیلنجوں کو سنگین بناتے ہیں۔ انہوں نے اس طرح کے غیر قانونی اقدامات کو ختم کرنے کی اپیل کی، جو بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مقاصد اور اصولوں کو کمزور کرتے ہیں۔ وزراء نے یہ بھی دہرایا کہ برکس اراکین بین الاقوامی قانون کے برعکس ایسی پابندیاں نہیں لگاتے اور نہ ہی ان کی حمایت کرتے ہیں جن کی اجازت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے نہ دی ہو۔
وزراء نے ہر قسم کی دہشت گردی، جو کبھی بھی، کہیں بھی اور کسی کے ذریعے بھی کی گئی ہو، کی بھرپور مذمت کی اور اسے مجرمانہ فعل قرار دیتے ہوئے ناقابل قبول بتایا۔ انہوں نے پہلگام دہشت گردانہ حملے کی سخت مذمت کی اور دہشت گردی کی تمام شکلوں کے خلاف لڑائی کے تئیں اپنے عزم کا اعادہ کیا، جس میں سرحد پار دہشت گردوں کی سرگرمیاں، دہشت گردی کی مالی معاونت اور محفوظ پناگاہوں کا مسئلہ شامل ہے۔ انہوں نے دہرایا کہ دہشت گردی کو کسی بھی مذہب، قومیت، تہذیب یا نسلی گروہ سے نہیں جوڑا جانا چاہیے اور دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث تمام افراد اور ان کے حامیوں کو قومی اور بین الاقوامی قانون کے مطابق ذمہ دار ٹھہرایا جائے اور انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔ انہوں نے دہشت گردی کے تئیں 'زیرو ٹالرنس' (قطعی برداشت نہ کرنے ) کو یقینی بنانے کی اپیل کی اور دہشت گردی سے نمٹنے میں دوہرے معیار کو مسترد کر دیا۔ وزراء نے دہشت گردی کے خلاف ریاستوں کی بنیادی ذمہ داری پر زور دیا اور کہا کہ دہشت گردانہ خطرے کو روکنے اور اس کے خلاف عالمی کوششیں بین الاقوامی قانون، خاص طور پر اقوام متحدہ کے چارٹر کے مقاصد اور اصولوں، اور متعلقہ بین الاقوامی معاہدوں اور پروٹوکولز، جیسے بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون، بین الاقوامی پناہ گزینوں کے قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کے مطابق ہونی چاہئیں۔
انہوں نے برکس کاؤنٹر ٹیررازم ورکنگ گروپ (سی ٹی ڈبلیوجی ) اور اس کے پانچ ذیلی گروپوں کی سرگرمیوں کا خیر مقدم کیا، جو برکس کاؤنٹر ٹیررازم اسٹریٹجی، برکس کاؤنٹر ٹیررازم ایکشن پلان اور سی ٹی ڈبلیو جی کے وژن پیپر پر مبنی ہیں۔ انہوں نے انسداد دہشت گردی تعاون کو مزید گہرا کرنے کی امید ظاہر کی۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے ڈھانچے میں بین الاقوامی دہشت گردی پر جامع کنونشن (سی سی آئی ٹی) کے جلد اختتام اور اسے اپنانے کی اپیل کی اور اقوام متحدہ کی طرف سے نامزد تمام دہشت گردوں اور دہشت گرد تنظیموں کے خلاف مشترکہ کارروائی کی حمایت کی۔ وزراء نے خاص طور پر نوجوان نسل میں انتہا پسندی اور بنیاد پرستی کا مقابلہ کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا اور برکس ممالک اور ان کی متعلقہ ایجنسیوں کے درمیان تعاون بڑھانے اور بہترین طریقہ کار کے تبادلے کی ضرورت پر زور دیا۔
کچھ اراکین کے درمیان مغربی ایشیا کی صورتحال کے تعلق سے اختلافات تھے۔ اس موضوع پر برکس کے اراکین نے اپنے اپنے قومی نقطہ نظر پیش کیے اور خیالات کا تبادلہ کیا۔ ان کی جانب سے پیش کیے گئے خیالات میں موجودہ بحران کا جلد حل تلاش کرنے کی ضرورت، مذاکرات اور سفارت کاری کی اہمیت، خود مختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام، بین الاقوامی قانون کی پاسداری، بین الاقوامی آبی گزرگاہوں کے ذریعے سمندری تجارت کے محفوظ اور بلاتعطل جاری رہنے کی اہمیت، اور شہری انفراسٹرکچر و شہری زندگی کا تحفظ شامل ہیں۔ کئی اراکین نے حالیہ واقعات کے عالمی اقتصادی صورتحال پر پڑنے والے اثرات پر بھی زور دیا۔ وزراء نے اس بات کا اعادہ کیا کہ اسرائیل-فلسطین تنازع کا منصفانہ اور پائیدار حل صرف پرامن ذرائع سے ہی ممکن ہے اور یہ فلسطینی عوام کے جائز حقوق، بشمول خود ارادیت کے حق اور واپسی کے حق کی تکمیل پر منحصر ہے۔ انہوں نے بین الاقوامی قانون کے مطابق، جس میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی کی متعلقہ قراردادیں اور عرب امن اقدام شامل ہیں، دو ریاستی حل کے تئیں غیر متزلزل عزم کے تناظر میں ریاستِ فلسطین کی مکمل رکنیت کی حمایت کی بھی تصدیق کی۔ اس میں 1967 کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ سرحدوں کے اندر ایک خود مختار، آزاد اور مستحکم ریاستِ فلسطین کا قیام شامل ہے، جس میں غزہ پٹی اور مغربی کنارہ شامل ہوں گے اور مشرقی یروشلم اس کا دارالحکومت ہوگا، تاکہ دو ریاستیں امن و سلامتی کے ساتھ ایک دوسرے کے پہلو میں زندگی گزار سکیں، اس وژن کو شرمندہ تعبیر کیا جا سکے۔
انہوں نے تسلیم کیا کہ غزہ پٹی، مقبوضہ فلسطینی علاقے کا اٹوٹ حصہ ہے۔ اس تناظر میں انہوں نے مغربی کنارے اور غزہ پٹی کو فلسطینی انتظامیہ کے تحت متحد کرنے کی اہمیت پر زور دیا اور فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت، بشمول ان کی آزاد ریاستِ فلسطین کے حق کی تصدیق کی۔ انہوں نے بین الاقوامی برادری سے اپیل کی کہ وہ فلسطینی انتظامیہ کی حمایت کرے تاکہ وہ اصلاحات نافذ کر سکے اور فلسطینیوں کی آزادی اور ریاست کی تعمیر کی جائز خواہشات کو پورا کر سکے۔ تاہم اس کے کچھ پہلوؤں پر ایک رکن نے اعتراض کیا۔ وزراء نے بین الاقوامی قانون کے مطابق بحیرہ احمر اور باب المندب میں تمام ملکوں کے جہازوں کے جہاز رانی کے حقوق اور آزادی کو یقینی بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے تمام فریقوں کی جانب سے اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کو بڑھانے کی حوصلہ افزائی کی، جس میں تنازع کی وجوہات کو دور کرنا اور اقوام متحدہ کی قیادت میں یمن کے امن عمل اور مذاکرات کی حمایت جاری رکھنا شامل ہے۔ انہوں نے یمن میں انسانی بحران، بشمول غذائی تحفظ اور بنیادی خدمات تک رسائی کے مسائل کو حل کرنے کی فوری ضرورت پر بھی زور دیا۔ وزراء نے اس بات پر زور دیا کہ طویل مدتی استحکام، خوشحالی اور سلامتی حاصل کرنے کی کوششوں میں علاقائی ممالک کے کردار اور تعاون کی ضرورت ہے۔ اس کے بھی کچھ پہلوؤں پر ایک رکن نے اعتراض ظاہر کیا۔ اسی طرح کے اعتراضات کی وجہ سے میٹنگ میں اتفاق رائے نہیں ہو سکا اور مشترکہ اعلامیہ جاری نہ کیا جا سکا۔
