وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے جمعرات کو اس پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا، "عمان کے ساحل کے قریب کل ایک ہندوستانی پرچم والے جہاز پر ہوا حملہ ناقابلِ قبول ہے اور ہم اس واقعہ کی سخت مذمت کرتے ہیں کہ تجارتی جہاز رانی اور سویلین ملاحوں کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ جہاز پر موجود تمام ہندوستانی عملے کے ارکان محفوظ ہیں اور انہیں بچانے کے لیے ہم عمان کے حکام کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔" انہوں نے کہا کہ ہندوستان اس بات کا اعادہ کرتا ہے کہ تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانا، بے قصور شہری عملے کے ارکان کو خطرے میں ڈالنا، یا جہاز رانی اور تجارت کی آزادی میں رکاوٹ پیدا نہیں کی جانی چاہیے۔
ابھی یہ معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ ہندوستانی جہاز پر حملہ کس نے کیا ہے، لیکن یہ حملہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی برکس ممالک کے وزرائے خارجہ کے میٹنگ میں شرکت کے لیے یہاں آئے ہوئے ہیں۔ قابلِ ذکر ہے کہ آبنائے ہرمز کے تعلق سے امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی بڑھی ہوئی ہے۔ ایران وہاں سے گزرنے والے جہازوں کو کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہا ہے تو امریکہ نے اسے روکنے کے لیے ایران کی گھیرا بندی کر رکھی ہے اور وہ ایرانی ٹینکروں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
