Masarrat
Masarrat Urdu

ایرانی بحریہ کے مطابق آبنائے ہرمز اب پہلے سے کہیں زیادہ اہم، پاسدارانِ انقلاب کا آبنائے ہرمز کے دائرۂ اثر میں بڑی توسیع کا اعلان

Thumb

تہران، 12 مئی (مسرت ڈاٹ کام) پاسدارانِ انقلاب بحریہ کے ایک سینئر افسر نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو اب ایک ’’وسیع آپریشنل علاقے‘‘ کی حیثیت دے دی گئی ہے، جو ایران جنگ سے پہلے کی نسبت کہیں زیادہ وسیع اور اہم تصور کیا جا رہا ہے۔

ریاستی خبر رساں ادارے فارس نیوز ایجنسی کے مطابق آئی آر جی سی بحریہ کے ڈپٹی پولیٹیکل ڈائریکٹر محمد اکبرزادہ نے منگل کے روز کہا کہ آبنائے ہرمز کو اب محض چند جزائر کے گرد محدود آبی گذرگاہ نہیں سمجھا جاتا۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں آبنائے ہرمز کو جزائر ہرمز اور ہنگام کے گرد ایک محدود علاقہ تصور کیا جاتا تھا، لیکن اب یہ تصور بدل چکا ہے۔

اکبرزادہ کے مطابق آبنائے ہرمز اب ایک اہم تزویری اور فوجی علاقہ بن چکی ہے، جو مشرق میں جاسک سے مغرب میں سری جزیرہ تک پھیلی ہوئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ کشیدگی شروع ہونے کے بعد ایران دوسری مرتبہ آبنائے ہرمز کے دائرۂ اثر میں توسیع کا اعلان کر رہا ہے۔

چار مئی کو آئی آر جی سی بحریہ نے ایک نقشہ جاری کیا تھا جس میں متحدہ عرب امارات کی خلیج عمان سے ملحق ساحلی پٹی کے بعض حصوں کو نئے کنٹرول زون کے طور پر ظاہر کیا گیا تھا۔

اس نقشے کے مطابق یہ زون مشرق میں ایران کے جبلِ مبارک اور اماراتی شہر فجیرہ سے لے کر مغرب میں ایران کے جزیرہ قشم اور امارات کی ریاست ام القوین تک پھیلا ہوا ہے۔

ایرانی خبر رساں اداروں فارس نیوز ایجنسی اور تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق آبنائے ہرمز کی چوڑائی اب 200 سے 300 میل تک سمجھی جا رہی ہے جبکہ اس سے قبل اس کا اندازہ 20 سے 30 میل لگایا جاتا تھا۔

تسنیم نیوز ایجنسی نے دعویٰ کیا کہ توسیع شدہ علاقہ اب ’’مکمل ہلال‘‘ کی شکل اختیار کر چکا ہے۔

ادھر ایرانی حکام نے اس معاملے پر خبر رساں ادارے رائٹرز کی جانب سے تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔

 

 

Ads