قابل ذکر ہے کہ نیٹ-یو جی 2026 امتحان تین مئی کو ملک بھر میں 22 لاکھ سے زائد امیدواروں نے دیا تھا، لیکن بعد میں اسے منسوخ کر دیا گیا کیونکہ بڑے پیمانے پر یہ الزامات سامنے آئے کہ لیک شدہ مواد اصل سوالیہ پرچے سے کافی حد تک مماثلت رکھتا تھا۔
اپوزیشن رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ انتہائی افسوسناک ہے کہ موجودہ حکومت اور نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) ایک بھی امتحان کو بدعنوانی سے پاک انداز میں منعقد کرانے میں کامیاب نہیں ہو رہی۔ 2024 کے تنازعات کے بعد 2026 کے امتحان کا بھی اسی طرح منسوخ ہونا حکومتی دعوؤں اور حفاظتی انتظامات کی حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے۔ جیسے جیسے تحقیقات آگے بڑھ رہی ہیں، طلبہ اور والدین کا غصہ سڑکوں سے لے کر سوشل میڈیا تک ظاہر ہو رہا ہے۔
نیٹ-یو جی 2026 کے منسوخ ہونے نے شدید سیاسی تنازع کو جنم دے دیا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے بی جے پی کی قیادت والی مرکزی حکومت پر ملک کے تعلیمی نظام میں ’’منظم بدعنوانی‘‘ کو فروغ دینے کا الزام لگایا ہے۔
اس سلسلے میں سب سے سخت حملہ کانگریس رہنما راہل گاندھی نے کیا۔ انہوں نے اس منسوخی کو ’’نوجوانوں کے مستقبل کے خلاف جرم‘‘ قرار دیا۔
مسٹر گاندھی نے حکومت پر ایسی ’’بدعنوان نظام‘‘ چلانے کا الزام لگایا جس نے لاکھوں طلبہ کے خوابوں کو کچل دیا ہے۔ انہوں نے ’’ایکس‘‘ پر لکھاکہ ’’22 لاکھ سے زیادہ طلبہ کی محنت، قربانی اور خوابوں کو اس بدعنوان بی جے پی حمایت یافتہ نظام نے برباد کر دیا ہے۔‘‘
انہوں نے خاندانوں کی جدوجہد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کچھ والدین نے قرض لیا، کچھ ماؤں نے اپنے زیورات فروخت کیے اور لاکھوں طلبہ رات بھر جاگ کر پڑھتے رہے، لیکن آخر میں ان کے ہاتھ صرف مایوسی آئی۔
مسٹر گاندھی نے الزام لگایا کہ بار بار ہونے والے پیپر لیک گھوٹالوں نے امتحانی نظام کی گہری ساختی خامیوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہاکہ ’’ہر بار پیپر لیک مافیا بچ نکلتا ہے جبکہ ایماندار طلبہ سزا بھگتے ہیں۔‘‘
انہوں نے ایک اور پوسٹ میں نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) کے ایک سابق سینئر افسر کی تقرری پر بھی حکومت کو نشانہ بنایا، جن کا نام ناقدین نے 2024 کے تنازع سے جوڑا تھا۔ انہوں نے لکھاکہ ’’بی جے پی انہی لوگوں کو انعام اور تحفظ دیتی ہے جو لاکھوں محنتی طلبہ کے مستقبل سے کھیلتے ہیں۔‘‘
اڈیشہ کے سابق وزیر اعلیٰ نوین پٹنائک نے نیٹ-یو جی 2026 کی منسوخی کو طلبہ کے ’’مقدس اعتماد‘‘ پر گہرا حملہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ جب امتحانات کی شفافیت متاثر ہوتی ہے تو یہ صرف انتظامی ناکامی نہیں بلکہ ان لاکھوں امیدواروں کے ساتھ دھوکہ ہے جنہوں نے سخت محنت اور قربانی کے ساتھ تیاری کی تھی۔
سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے بھی مرکز پر شدید حملہ کرتے ہوئے کہا کہ بار بار پیپر لیک ہونے سے عوام کا مقابلہ جاتی امتحانات سے اعتماد مکمل طور پر ختم ہو گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ دوبارہ امتحان ہونے پر اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ پیپر پھر لیک نہیں ہوگا۔
راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے رہنما تیجسوی یادو نے حکمراں جماعت پر 23 لاکھ طلبہ کا مستقبل برباد کرنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ اب لاکھوں امیدواروں کو دوبارہ امتحانی مراکز تک سفر کرنا پڑے گا، جس سے مالی بوجھ اور ذہنی دباؤ میں اضافہ ہوگا۔
کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے کہاکہ ’’دال میں کچھ کالا ہے، حکومت توجہ نہیں دے رہی اور طلبہ کا مستقبل تباہ کر رہی ہے۔‘‘
این سی پی رکن پارلیمان سپریا سولے نے کہاکہ ’’یہ انتہائی افسوسناک اور حیران کن ہے کہ آج کے تکنیکی دور میں بھی اتنی لاپروائی برتی جا رہی ہے۔ میں اس طرح کے واقعات کی سخت مذمت کرتی ہوں۔‘‘
امتحان منسوخ ہونے اور پیپر لیک و بے ضابطگیوں کے الزامات کے بعد اسٹوڈنٹس فیڈریشن آف انڈیا (ایس ایف آئی) کے کارکنوں نے این ٹی اے کے خلاف احتجاج بھی کیا۔
سی پی آئی کے راجیہ سبھا رکن پی۔ سندوش کمار نے مرکز اور این ٹی اے پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے نے لاکھوں طلبہ کے مستقبل کو غیر یقینی صورتحال اور ذہنی دباؤ میں دھکیل دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مسلسل پیپر لیک، امتحانی گھوٹالوں اور امتحانات کی منسوخی کے واقعات نے موجودہ حکومت میں امتحانی نظام کی مکمل ناکامی کو بے نقاب کر دیا ہے۔
