Masarrat
Masarrat Urdu

سینٹ کام نے ایرانی بندرگاہوں پر امریکی حصار جاری رکھنے کی تصدیق کی

  • 12 May 2026
  • مسرت ڈیسک
  • دنیا
Thumb

واشنگٹن، 12 مئی (مسرت ڈاٹ کام) امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے امریکی تجویز مسترد کیے جانے کے بعد خطے میں اس کی عسکری کارروائیاں اور بحری سرگرمیاں بدستور جاری ہیں۔

امریکی سینٹرل کمانڈ ’’سینٹ کام‘‘ نے منگل کے روز جاری مختصر بیان میں کہا کہ امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہام لنکن بحیرہ عرب میں اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں پر اپنا بحری حصار بھی برقرار رکھا ہوا ہے۔

سینٹ کام کے مطابق امریکی بحریہ نے 65 تجارتی جہازوں کا راستہ تبدیل کیا جبکہ آبنائے ہرمز میں چار بحری جہازوں کو روک کر ناکارہ بنایا گیا۔

یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب امریکی محکمہ دفاع نے گزشتہ روز اعلان کیا تھا کہ ایک امریکی ایٹمی آبدوز جبل طارق کی بندرگاہ پہنچ گئی ہے۔

امریکی بحریہ کے چھٹے بیڑے کے مطابق ’’اوہائیو کلاس‘‘ آبدوزیں ایسے پلیٹ فارمز ہیں جو ناقابلِ شناخت انداز میں میزائل لانچ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں اور امریکہ کے جوہری دفاعی نظام کا اہم حصہ سمجھی جاتی ہیں۔

تاہم ابتدائی طور پر یہ واضح نہیں کیا گیا کہ آبدوز کی تعیناتی کا تعلق ایران کی جانب سے اس امن تجویز مسترد کیے جانے سے ہے یا نہیں، جو 28 فروری 2026ء کو شروع ہونے والی جنگ کے خاتمے کے لیے پیش کی گئی تھی۔

واضح رہے کہ ایران اور امریکہ و اسرائیل کے درمیان کشیدگی بڑھنے کے بعد واشنگٹن نے سمندر میں تقریباً 20 جنگی بحری جہاز تعینات کر رکھے ہیں، جنہیں ہزاروں فوجیوں اور اہلکاروں کی نفری سے تقویت دی گئی ہے۔

امریکہ 13 اپریل 2026ء سے ایرانی بندرگاہوں کا سخت بحری محاصرہ جاری رکھے ہوئے ہے اور کسی بھی تجارتی جہاز کو وہاں داخل ہونے یا نکلنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔

 

 

Ads