ذرائع کے مطابق اجلاس میں نائب صدر جے ڈی وینس، خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف، وزیر خارجہ مارکو روبیو، وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ، جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین اور سی آئی اے ڈائریکٹر جان ریٹکلف سمیت دیگر اعلیٰ حکام شریک ہوں گے۔
دو امریکی حکام کے مطابق مسٹر ڈونلڈ ٹرمپ ایران پر دباؤ بڑھانے اور اس کے جوہری پروگرام کے حوالے سے مزید رعایتیں حاصل کرنے کے لیے کسی نہ کسی قسم کی فوجی کارروائی کی طرف مائل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق زیر غور آپشنز میں ’’پروجیکٹ فریڈم‘‘ کو دوبارہ فعال کرنا بھی شامل ہے، جو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کے تحفظ کے لیے شروع کیا گیا تھا تاہم گزشتہ ہفتے اسے معطل کر دیا گیا تھا۔
اکسیوس کے مطابق ایک اور آپشن فضائی حملوں کی نئی مہم شروع کرنا ہے، جس کے تحت ان 25 فیصد اہداف کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے جن کی نشاندہی امریکی فوج پہلے ہی کر چکی ہے مگر اب تک ان پر حملے نہیں کیے گئے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مسٹر ڈونلڈ ٹرمپ آئندہ فیصلے کرتے وقت اپنے متوقع دورۂ چین کو بھی مدنظر رکھ رہے ہیں، جہاں وہ بدھ کو روانہ ہوں گے اور جمعہ کو واپس آئیں گے۔
دو امریکی حکام کے مطابق امکان ہے کہ ٹرمپ چین سے واپسی سے قبل ایران کے خلاف کسی بڑی فوجی کارروائی کا حکم نہیں دیں گے۔
