رپورٹ کے مطابق ایرانی طیارے اپریل کے اوائل میں، مسٹر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی کے اعلان کے چند روز بعد، راولپنڈی کے قریب واقع نور خان ایئر بیس پر اترے۔
امریکی حکام کے مطابق منتقل کیے گئے طیاروں میں ایرانی فضائیہ کا جاسوس طیارہ آر سی-130 بھی شامل تھا، جو امریکی ساختہ لاک ہیڈ۔ سی 130 ہرکولیس کا انٹیلی جنس ورژن سمجھا جاتا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران نے بعض سویلین طیارے افغانستان بھی بھیجے۔ افغان حکام کے مطابق ایرانی کمپنی ماہان ایئر کا ایک طیارہ کابل پہنچا تھا جسے بعد میں ہرات منتقل کر دیا گیا۔
تاہم طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے افغان سرزمین پر ایرانی طیاروں کی موجودگی کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ایران کو ایسے اقدامات کی ضرورت نہیں۔
دوسری جانب ایک اعلیٰ پاکستانی عہدے دار نے بھی امریکی الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ نور خان ایئر بیس کھلے شہری علاقے میں واقع ہے جہاں کسی بڑے فضائی بیڑے کو خفیہ رکھنا ممکن نہیں۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان اس بحران میں ایک نازک توازن برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ ایک طرف امریکہ کے سامنے استحکام کے ثالث کے طور پر اپنی حیثیت برقرار رکھ سکے اور دوسری جانب ایران اور چین کو ناراض نہ کرے۔
اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی رپورٹ کے مطابق 2020 سے 2024 کے درمیان پاکستان کے تقریباً 80 فیصد بڑے ہتھیار چین نے فراہم کیے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ایران کی حالیہ تجاویز میں جنگی ہرجانے، آبنائے ہرمز پر ایرانی خودمختاری کے اعتراف اور اقتصادی پابندیوں کے خاتمے کے مطالبات شامل تھے، تاہم مسٹر ڈونلڈ ٹرمپ نے انہیں ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔
ادھر آبنائے ہرمز کے قریب محدود جھڑپیں جاری ہیں جبکہ متحدہ عرب امارات نے ایک بار پھر ایرانی ڈرون حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔
