Masarrat
Masarrat Urdu

ٹرمپ نے جنگ کے خاتمے کی امریکی پیشکش پر ایران کے ردعمل کو 'مکمل طور پر ناقابل قبول' قرار دیا

  • 11 May 2026
  • مسرت ڈیسک
  • دنیا
Thumb

واشنگٹن، 11 مئی (مسرت ڈاٹ  کام) امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ کے خاتمے سے متعلق امریکی تجاویز پر ایران کے ردعمل کو "مکمل طور پر ناقابلِ قبول" قرار دیا ہے۔ یہ معلومات بی بی سی میں شائع ایک رپورٹ میں دی گئی ہیں۔

ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم نے بتایا کہ پاکستان کے ذریعے بھیجے گئے تہران کی تجاویزمیں (جس میں پاکستان ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے) تمام محاذوں پر فوری جنگ بندی، امریکی بحری ناکہ بندی کو روکنا اور ایران پر مزید کسی حملے نہ کرنے کی ضمانت شامل ہے۔

امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے فروری میں شروع کی گئی جنگ کو ختم کرنے کے لیے مذاکرات کو سہل بنانے کی غرض سے کیا گیا جنگ بندی معاہدہ، وقفے وقفے سے فائرنگ کے باوجود، بڑی حد تک برقرار رہا ہے۔

اس ہفتے کے آغاز میں ٹرمپ نے دہرایا کہ ایران میں جنگ "جلد ہی ختم ہو جائے گی"۔

لیکن اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا کہ ایران کے خلاف جنگ کو ختم ماننے سے پہلے ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو "تباہ" کیا جانا چاہیے۔

سی بی ایس کے پروگرام '60 منٹس' کو دیے گئے ایک انٹرویو میں نیتن یاہو نے کہا، "ابھی بھی ایسے افزودگی کے مقامات ہیں جنہیں تباہ کیا جانا باقی ہے۔"

اتوار کو ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے تہران کی تجویز کا براہِ راست ذکر تو نہیں کیا، لیکن کہا، "ہم دشمن کے سامنے کبھی سر نہیں جھکائیں گے اور اگر بات چیت یا معاہدے کی بات اٹھتی ہے تو اس کا مطلب ہتھیار ڈالنا یا پیچھے ہٹنا نہیں ہے۔"

ٹرمپ نے 'ٹروتھ سوشل' پر پوسٹ کیا: "میں نے ابھی ابھی ایران کے نام نہاد 'نمائندوں' کا جواب پڑھا ہے۔ مجھے یہ پسند نہیں آیا—بالکل ناقابلِ قبول۔"

امریکی خبر رساں ادارے ‘ایکسیوس’ نے بتایا کہ ایک صفحے پر مشتمل 14 نکاتی امریکی یادداشت میں ایرانی جوہری افزودگی پر پابندی، پابندیوں کے خاتمے اور آبنائے ہرمز سے بلا رکاوٹ آمد و رفت بحال کرنے جیسے نکات شامل ہیں۔

اس میں دو امریکی عہدیداروں اور دو دیگر ذرائع کا حوالہ دیا گیا ہے—جن کے نام ظاہر نہیں کیے گئے—جنہیں اس معاملے کی معلومات دی گئی تھیں۔ ان ذرائع کے مطابق یادداشت میں شامل کئی شرائط حتمی معاہدہ طے پانے کے بعد ہی نافذ ہوں گی۔

ایران نے آبنائے ہرمز کو بند رکھنا جاری رکھا ہے، جس کے باعث عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔

امریکہ نے تہران پر دباؤ ڈالنے کے لیے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی نافذ کر دی ہے، جس پر ایران نے شدید ناراضی ظاہر کی ہے۔

اسرائیلی اور امریکی افواج نے 28 فروری کو ایران پر بڑے پیمانے پر فضائی حملے شروع کیے تھے۔ گزشتہ ماہ اس جنگ میں جنگ بندی نافذ ہوئی تھی۔

سی بی ایس کو دیے گئے انٹرویو میں نیتن یاہو نے کہا، "میں اسرائیلی فوج کے لیے امریکی مالی امداد کو صفر تک کم کرنا چاہتا ہوں۔" انہوں نے کہا، "ہمیں ہر سال 3.8 ارب ڈالر ملتے ہیں اور میرا خیال ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم باقی فوجی امداد سے بھی خود کو الگ کر لیں۔"

انہوں نے مزید کہا، "آئیے ابھی سے اس کا آغاز کریں اور اگلی دہائی میں اسے مکمل کریں۔"

 

 

Ads