Masarrat
Masarrat Urdu

تمل ناڈو :وجے نے وزیراعلیٰ کے عہدے کا حلف اٹھایا، نو دیگر وزراء بھی کابینہ میں شامل

Thumb

چنئی،10 مئی (مسرت ڈاٹ  کام) تمل ناڈو کی سیاست میں ایک نیا باب رقم کرتے ہوئے، نو تشکیل شدہ پارٹی 'تملگا ویٹری کژگم' (ٹی وی کے) کے بانی اور اداکار سے سیاست داں بننے والے سی۔ جوزف وجے نے اتوار کو ریاست کے 13 ویں وزیراعلیٰ کے طور پر حلف اٹھا لیا۔ انہوں نے ریاست میں کئی دہائیوں سے اقتدار پر قابض جماعتوں، ڈی ایم کے(ڈی ایم کے) اور اے آئی اے ڈی ایم کے کو شکست دے کر یہ سنگ میل عبور کیا۔ وجے نے انتخابات میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان دونوں جماعتوں کی تقریباً 60 سالہ سیاسی غلبہ کا خاتمہ کر دیا۔

اتوار کی صبح تقریباً دس بجے، جواہر لال نہرو انڈور اسٹیڈیم میں منعقدہ ایک سادہ مگر پروقار تقریب میں، گورنر راجندر وشواناتھ آرلیکر نے وجے اور ان کی پہلی کابینہ کے نو ارکان کو عہدے اور رازداری کا حلف دلایا۔ وزراء میں ٹی وی کے کے جنرل سکریٹری این۔ آنند، آدھو ارجن، کے۔ اے سینگوٹیا، ڈاکٹر کے۔ جی ارون راج، پی۔ وینکٹ رمنن، آر۔ نرمل کمار، راج موہن، ڈاکٹر ٹی۔ کے پربھو اور مس ایس۔ کیرتھنا شامل ہیں۔ ان تمام ارکان نے تمل زبان میں ایشور کے نام پر حلف اٹھایا۔

جب مسٹر وجے کو حلف کے لیے مدعو کیا گیا اور انہوں نے ان الفاظ کے ساتھ آغاز کیا"میں، سی۔ جوزف وجے...، تو اس موقع پر حاضرین نے تالیوں کی گونج میں ان کا بھرپور استقبال کیا۔ حیران کن بات یہ تھی کہ روایتی تمل لباس کے بجائے مسٹر وجے نے سیاہ پینٹ، سفید فل آستین والی قمیض اور سیاہ کوٹ زیب تن کر رکھا تھا۔

اس موقع پر کانگریس کے سینئر رہنما اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی بھی پہنچے۔ وجے حکومت کی تشکیل میں کانگریس کا کردار انتہائی اہم رہا ہے، اور وہ اسٹیج پر وجے کے بالکل ساتھ بیٹھے نظر آئے۔

مسٹر وجے نے انتخابی سیاست کے اپنے پہلے ہی امتحان میں، پارٹی بنانے کے محض دو سال کے اندر شاندار آغاز کیا۔ انہوں نے 108 نشستیں جیتیں، جن میں خود اداکار سے سیاست دان بننے والے وجے دو حلقوں سے کامیاب ہوئے۔ چونکہ وجے دو نشستوں سے جیتے ہیں، اس لیے ان کے پاس 107 ارکانِ اسمبلی ہی ہیں۔ اکثریت کے لیے ضروری 118 ارکانکی حمایت حاصل کرنے میں انہیں 11 ارکان کی کمی کا سامنا تھا، جسے پورا کرنے اور اکثریت فراہم کرنے میں کانگریس نے اہم کردار ادا کیا۔
کانگریس کے علاوہ ہندستانی کمیونسٹ پارٹی (سی پی آئی)، مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی (سی پی آئی ایم)، انڈین یونین مسلم لیگ (آئی یو ایم ایل) اور مقامی جماعت وی سی کے نے بھی حمایت کی پیشکش کی۔ اس طرح ریاست میں وجے کی قیادت میں حکومت سازی کی راہ ہموار ہوگئی۔ وہ ہفتہ کی شام ان تمام جماعتوں کے حمایتی خطوط لے کر راج بھون پہنچے اور گورنر ارلیکر کے سامنے حکومت بنانے کا دعویٰ پیش کیا۔ گورنر نے انہیں فوری طور پر وزیراعلیٰ مقرر کیا اور حلف برداری کی تقریب کے لیے مدعو کیا۔

وجے حکومت کی حمایت کرنے والی جماعتوں میں کانگریس کے پاس پانچ اور دیگر تمام جماعتوں کے پاس دو دو ارکانِ اسمبلی ہیں۔ کانگریس کی حکومت میں شمولیت کے ساتھ ہی تمل ناڈو کی سیاسی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہوگا جب وہاں کوئی اتحادی حکومت بنے گی۔

حلف برداری کی اس تقریب میں مسٹر وجے کے والد ایس۔ اے چندر شیکھر اور والدہ شوبھا چندر شیکھر کے علاوہ مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین، اپوزیشن لیڈروں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات نے شرکت کی۔

 

تقریب کا باقاعدہ آغاز 'وندے ماترم'، 'قومی ترانہ' اور 'تمل تھائی وازتھو' سے ہوا۔ اس کے بعد مسٹر وجے اور ان کی کابینہ کے دیگر ارکان کو حلف دلایا گیا۔

 

 

تقریب سے قبل ہی ٹی وی کے کے حامیوں کی ایک بڑی تعداد اسٹیڈیم کی جانب جانے والی سڑکوں کے دونوں اطراف قطار در قطار کھڑی تھی، جنہوں نے پورے جوش و جذبے کے ساتھ وجے کا استقبال کیا۔ وہ عوام جو جگہ کی کمی کے باعث اسٹیڈیم کے اندر داخل نہیں ہو سکے تھے، ان کی سہولت کے لیے تقریب گاہ کے گرد و نواح میں کئی مقامات پر بڑی ایل سی ڈی اسکرینیںنصب کی گئی تھیں، جہاں حلف برداری کی کارروائی براہِ راست دکھائی گئی۔

 

 

 

Ads