Masarrat
Masarrat Urdu

بالآخر گورنر نے دی ہری جھنڈی، اتوار کو وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف لیں گے وجے

Thumb

چنئی، 09 مئی (مسرت ڈاٹ کام) تمل ناڈو کی سیاست میں ایک تاریخی پیش رفت کے تحت فلم اداکار سے سیاستداں بنے چندرشیکھر جوزف وجے طویل سیاسی کھینچا تانی کے بعد اتوار کی صبح ریاست کے وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف لیں گے۔ اس کے ساتھ ہی دراوڑی سیاست کے گڑھ میں پہلی بار اتحاد کی حکومت اقتدار سنبھالے گی۔

ایک ہفتے تک جاری سیاسی تعطل اور حکومت سازی کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال کے بعد آخرکار گورنر وی آر ارلیکر نے تملگا ویٹری کژگم (ٹی وی کے) کے سربراہ وجے کو حکومت بنانے کی دعوت دی۔ راج بھون میں وجے اور اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں کے ساتھ دو گھنٹے سے زائد جاری ملاقات کے بعد گورنر نے انہیں وزیر اعلیٰ مقرر کرنے کا اعلان کیا۔ حلف برداری کی تقریب اتوار کی صبح 10 بجے جواہر لال نہرو اِنڈور اسٹیڈیم میں منعقد ہوگی۔

مسٹر وجے نے کانگریس، مارکسی کمیونسٹ پارٹی (سی پی ایم)، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (سی پی آئی)، ودوتھلائی چرُتھگل کچی (وی سی کے) اور انڈین یونین مسلم لیگ (آئی یو ایم ایل) کے اراکین اسمبلی کے ساتھ راج بھون پہنچ کر حکومت بنانے کا دعویٰ پیش کیا۔ ان کے ساتھ کانگریس کے انچارج گیریش چودنکر، تمل ناڈو کانگریس صدر کے سیلواپیرنتھگئی، سی پی ایم کے ریاستی سکریٹری پی شَنموگم، رکن پارلیمان ایس وینکٹیشن اور اتحادی جماعتوں کے دیگر رہنما بھی موجود تھے۔

راج بھون سے واپسی کے وقت مسٹر وجے کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے ہزاروں حامی، جن میں بڑی تعداد خواتین کی تھی، سڑک کے کنارے موجود رہے۔

مسٹر وجے کے ساتھ نو دیگر وزراء بھی حلف لیں گے۔ تقریب میں کانگریس صدر ملکارجن کھرگے اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی کی شرکت کا امکان ہے۔ ممکنہ وزراء میں ٹی وی کے کے جنرل سکریٹری ‘بوسی’ این آنند، آدھو ارجونا، سابق اے آئی اے ڈی ایم کے وزیر کے اے سینگوٹّیان اور سابق آئی آر ایس افسر ارون راج شامل ہیں۔ کانگریس کی جانب سے تھرگئی کاؤتھبرٹ اور پی وشوناتھن کے وزیر بننے کی توقع ہے۔

گورنر نے نامزد وزیر اعلیٰ وجے کو 13 مئی تک اسمبلی میں اکثریتی اعتماد حاصل کرنے کی ہدایت دی ہے۔ نو منتخب اراکین اسمبلی کو پیر کے روز حلف دلایا جائے گا، جس کے بعد پروٹیم اسپیکر اور پھر اسمبلی اسپیکر کا انتخاب ہوگا۔

ٹی وی کے نے اپنے پہلے اسمبلی انتخابات میں 108 نشستیں جیت کر سب سے بڑی جماعت کے طور پر ابھرنے کے باوجود اکثریت حاصل نہیں کی تھی۔ تکنیکی طور پر مسٹر وجے کے پاس 107 اراکین اسمبلی مانے جا رہے تھے کیونکہ انہوں نے دو نشستوں سے کامیابی حاصل کی تھی۔ بعد ازاں کانگریس کے پانچ اور سی پی آئی، سی پی ایم، وی سی کے اور آئی یو ایم ایل کے دو، دو اراکین اسمبلی کی حمایت سے ٹی وی کے کی تعداد 120 تک پہنچ گئی۔

 

Ads