وندے ماترم کو لازمی قرار دینا غیر دستوری، مذہبی آزادی پر حملہ اور ناقابلِ قبول : مسلم پرسنل لا بورڈ
- 07 May 2026
- مسرت ڈیسک
- مذہب
نئی دہلی، 7 مئی (مسرت ڈاٹ کام) آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے مرکزی کابینہ کے اُس فیصلے کو سختی سے مسترد کیا ہے جس کے تحت وندے ماترم کو قومی ترانے ’’جن گن من‘‘ کے مساوی درجہ دینے، اس کے تمام چھ بند لازمی قرار دینے اور تمام سرکاری و تعلیمی اداروں کے پروگراموں میں جن گن من سے قبل پڑھنے کو ضروری بنانے کا اعلان کیا گیا ہے۔
بورڈ نے اسے دستورِ ہند کی بنیادی روح، مذہبی آزادی، سیکولر اقدار اور کانسٹی ٹیونٹ اسمبلی کے تاریخی فیصلوں کے سراسر خلاف قرار دیتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر یہ فیصلہ واپس لے۔
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے ترجمان ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے اپنے بیان میں کہا کہ مرکزی کابینہ کا یہ فیصلہ نہ صرف غیر دستوری اور غیر جمہوری ہے بلکہ ملک کے مذہبی تنوع اور آئینی اقدار کے بھی منافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک سیکولر ریاست کسی مخصوص مذہبی تصور یا عقیدے کو تمام شہریوں پر زبردستی مسلط نہیں کر سکتی۔ وندے ماترم کے متعدد بندوں میں درگا اور دیگر دیوی دیوتاؤں کی مدح سرائی اور عبادت کا تصور موجود ہے، جو مسلمانوں کے بنیادی عقیدۂ توحید سے براہِ راست متصادم ہے۔ اسلام صرف ایک اللہ وحدہٗ لا شریک کی عبادت کی تعلیم دیتا ہے اور کسی بھی نوع کے شرک کو قطعی طور پر قبول نہیں کرتا۔
ڈاکٹر الیاس نے کہا کہ خود کانگریس نے 1937 میں رابندرناتھ ٹیگور کے مشورے کے بعد یہ طے کیا تھا کہ وندے ماترم کے صرف ابتدائی دو بند ہی پڑھے جائیں، کیونکہ بعد کے بند مذہبی نوعیت رکھتے ہیں اور سبھی طبقات کے لئے قابلِ قبول نہیں۔ اسی حقیقت کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے 1950 میں کانسٹی ٹیونٹ اسمبلی نے بھی صرف پہلے دو بندوں کو قومی گیت کے طور پر تسلیم کیا تھا۔ ایسے میں تمام چھ بندوں کو لازمی قرار دینا نہ صرف تاریخی اتفاقِ رائے سے انحراف ہے بلکہ ایک خطرناک اور اشتعال انگیز اقدام بھی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ملک کی وحدت و سالمیت، جبر، یکسانیت اور مذہبی بالادستی سے نہیں بلکہ آئین، باہمی احترام اور مذہبی آزادی کے تحفظ سے مضبوط ہوتی ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ ملک کے حساس مذہبی معاملات کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرنے سے باز آئے اور ایسے فیصلوں سے گریز کرے جو قومی ہم آہنگی کو نقصان پہنچاتے ہوں۔ بورڈ نے واضح کیا کہ اگر حکومت نے اس فیصلے کو فوری طور پر واپس نہ لیا تو آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اس کے خلاف عدالت سے رجوع کرنے پر مجبور ہوگا۔