Masarrat
Masarrat Urdu

ایران کے متحدہ عرب امارات پر دوسرے روز بھی میزائلوں اور ڈرون سے حملے

  • 06 May 2026
  • مسرت ڈیسک
  • دنیا
Thumb

ابوظہبی 6 مئی (مسرت ڈاٹ کام) مشرق وسطیٰ پر ایک بار پھر جنگ کے بادل منڈلانے لگے ہیں، ایران نے متحدہ عرب امارات پر دوسرے روز بھی میزائلوں اور ڈرون سے حملے کیے ہیں۔

الجزیرہ نے رپورٹ کیا ہے کہ متحدہ عرب امارات کا کہنا ہے کہ اس پر لگاتار دوسرے دن بھی ایرانی میزائلوں اور ڈرونز سے حملے کیے گئے ہیں۔ تاہم ایران نے اس جارحیت میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔ ایران کی پاسدارانِ انقلاب اسلامی انقلابی گارڈ کور نے منگل کی رات کہا کہ ملکی افواج نے حالیہ دنوں میں متحدہ عرب امارات کے خلاف کوئی میزائل یا ڈرون کارروائی نہیں کی۔ فارس نیوز ایجنسی کے ذریعے جاری بیان میں کہا گیا ’’اگر کوئی کارروائی کی گئی ہوتی تو ہم اسے واضح اور دوٹوک انداز میں اعلان کرتے۔ لہٰذا یو اے ای کی وزارتِ دفاع کی رپورٹ مکمل طور پر مسترد کی جاتی ہے اور اس میں کوئی صداقت نہیں ہے۔‘‘

دوسری طرف اماراتی وزارت دفاع نے بتایا کہ فضائی دفاعی نظام ایران سے آنے والے بیلسٹک، کروز میزائلوں اور ڈرونز سے نمٹ رہا ہے اور مختلف علاقوں میں دھماکے فضائی دفاعی کارروائیوں کا نتیجہ ہیں۔ یہ کشیدگی ایسے وقت میں بڑھ رہی ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان دوبارہ جنگ کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں، کیوں کہ واشنگٹن نے پیر کے روز ’’پروجیکٹ فریڈم‘‘ کے نام سے ایک نئی مہم شروع کی ہے جس کا مقصد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی رہنمائی کرنا ہے، تاہم جسے عارضی طور پر ٹرمپ نے روک دیا ہے۔

پیر کے روز، واشنگٹن کی کارروائی شروع ہونے کے چند گھنٹوں بعد، ایرانی افواج نے دعویٰ کیا کہ انھوں نے امریکی جنگی جہازوں پر بمباری کی ہے۔ امریکی مرکزی کمان نے کسی بھی جہاز کے نشانہ بننے کی تردید کی، تاہم اس بات کی تصدیق کی کہ ایران نے امریکی بحری اثاثوں اور امریکی پرچم بردار تجارتی جہازوں پر کروز میزائل داغے۔ امریکی افواج نے بتایا کہ انھوں نے ایران کی 6 چھوٹی کشتیوں کے ساتھ ساتھ آنے والے میزائلوں اور ڈرونز کو بھی تباہ کر دیا۔ پیر کا حملہ تہران نے پیر کے روز متحدہ عرب امارات کی جانب 15 میزائل داغے، جن میں زیادہ تر بیلسٹک تھے، جو تقریباً 4 ہفتے قبل ہونے والی امریکا-ایران جنگ بندی کے بعد پہلا واقعہ تھا۔

اماراتی حکام کے مطابق تمام میزائل مار گرائے گئے، تاہم ایک ڈرون حملے میں فجیرہ میں آگ بھڑک اٹھی، جہاں ایک اہم تیل ٹرمینل واقع ہے۔ یہ تنصیب جنگ کے دوران انتہائی اہم رہی ہے، جو روزانہ تقریباً 17 لاکھ بیرل تیل سنبھالتی ہے، جو ملک کی برآمداتی صلاحیت کا تقریباً نصف ہے، کیوں کہ یہ خلیجِ عمان کے راستے آبنائے آبنائے ہرمز کو بائی پاس کرنے کی سہولت دیتی ہے۔ اس واقعے میں تینہندوستانی شہری زخمی ہوئے، جسے ہندوستانی کی حکومت نے ناقابلِ قبول قرار دیا۔

حیرت انگیز طور پر بمباری کے تبادلے کے باوجود واشنگٹن نے کہا کہ ایران نے جنگ بندی کی خلاف ورزی نہیں کی۔ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ تجارتی جہاز رانی کے تحفظ کے لیے یہ کارروائی عارضی ہے اور امریکی افواج ایرانی پانیوں یا فضائی حدود میں داخل نہیں ہوئیں۔ انھوں نے کہا ’’ہم لڑائی نہیں چاہتے۔‘‘

دوسری طرف ترجمان پاسدارن انقلاب کا کہنا تھا کہ فجیرہ میں تیل تنصیبات پر حملے کا طے شدہ منصوبہ نہیں تھا، جو کچھ ہوا وہ امریکی فوجی مہم جوئی کا نتیجہ تھا۔ ابراہیم ذوالفقاری نے ایکس پر لکھا متحدہ عرب امارات کے خلاف کارروائی جوابی ردعمل تھا، مزید حملے ہوئے تو ایران اہم اماراتی تنصیبات پر بمباری سے دریغ نہیں کرے گا۔

خاتم الانبیاء ہیڈ کوارٹرز کے ترجمان ابراهیم ذوالفقاری نے دعویٰ کیا کہ ایران کی مسلح افواج نے یو اے ای پر کوئی میزائل یا ڈرون حملہ نہیں کیا۔ یو اے ای سے ایران کے خلاف کوئی اقدام کیا گیا تو اس کا عبرت ناک جواب دیا جائے گا۔

یو اے ای پر حملوں کی مذمت وزیر اعظم شہباز شریف نے متحدہ عرب امارات پر حملوں کی مذمت کی۔ ایکس پر لکھا پاکستان مشکل کی گھڑی میں اماراتی حکومت کے ساتھ کھڑا ہے۔ سویلین انفرا اسٹرکچر پر میزائل اور ڈرون حملے نا قابل قبول ہیں۔ خطے میں پائیدار امن کے لیے جنگ بندی کا احترام ضروری ہے۔

عالمی رہنماؤں کی جانب سے بھی متحدہ عرب امارات پر حملے کی شدید مذمت کی گئی، برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے کہا ایران خطے میں کشیدگی میں اضافہ روکنے کے لیے سفارت کاری کی جانب آئے۔ فرانسیسی صدر امانوئل میکرون نے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا امارات کی شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے والے ایرانی حملے ناقابلِ قبول ہیں۔ میکرون نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

کینیڈین وزیر اعظم، جرمن چانسلر، قطر، اردن، بحرین اور کویت نے بھی متحدہ عرب امارات پر ایران کے ڈرون اور میزائل حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے یو اے ای کی سلامتی اور خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیا، خلیج تعاون کونسل نے متحدہ عرب امارات کے آئل ٹینکر پر ایرانی حملے کو بحری قزاقی قرار دیا۔

Ads