Masarrat
Masarrat Urdu

سینٹکام کا دعویٰ، خلیج عرب میں 87 ممالک کے جہاز موجود

  • 05 May 2026
  • مسرت ڈیسک
  • دنیا
Thumb

واشنگٹن، 5 مئی (مسرت ڈاٹ کام) امریکی فوج نے کہا ہے کہ خلیج عرب میں اس وقت موجود بحری جہاز 87 ممالک کی نمائندگی کر رہے ہیں، جو ایران کے ساتھ بڑھتی کشیدگی کے دوران عالمی موجودگی کی عکاسی کرتے ہیں۔ سینٹکام کے مطابق ایران پر عائد سمندری ناکہ بندی کے آغاز سے اب تک تقریباً 50 تجارتی بحری جہازوں کے راستے تبدیل کیے گئے تاکہ جہاز رانی کی نقل و حرکت کو محفوظ بنایا جا سکے۔

بیان میں بتایا گیا کہ میزائل شکن بحری جہاز یو ایس ایس پنکنی نے گشت کے دوران ایک تجارتی جہاز کو روکا، جو خطے میں سخت نگرانی کی نشاندہی کرتا ہے۔

ایک امریکی فوجی عہدیدار کے مطابق امریکی افواج نے ایران کی چھ چھوٹی کشتیوں کو تباہ کیا اور فوجی و تجارتی جہازوں کی جانب داغے گئے میزائلوں اور ڈرونز کو بھی ناکام بنایا۔

سینٹکام کے سربراہ بریڈ کوپر نے کہا کہ امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر اور سی ہاک ہیلی کاپٹر نے ان کشتیوں کو نشانہ بنایا جو جہاز رانی کے لیے خطرہ بن رہی تھیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ کچھ میزائل امریکی بحریہ کے جہازوں جبکہ دیگر تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے لیے داغے گئے، تاہم افواج نے مؤثر دفاع کیا۔

یہ کارروائیاں امریکی مشن ’’پروجیکٹ فریڈم‘‘ کا حصہ ہیں، جس کا مقصد آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی محفوظ گزرگاہ کو یقینی بنانا ہے۔

واضح رہے کہ آبنائے ہرمز عالمی تیل اور گیس کی تجارت کے لیے ایک اہم گزرگاہ ہے، جہاں کسی بھی خلل کے عالمی منڈیوں پر براہ راست اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

دوسری جانب ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی افواج نے آبنائے ہرمز میں امریکی بحری جہازوں کے قریب کروز میزائل اور ڈرونز داغے، جنہیں انتباہی کارروائی قرار دیا گیا ہے۔

 

 

Ads