Masarrat
Masarrat Urdu

ایرانی تیل پر چین اور امریکہ آمنے سامنے؛ بیجنگ نے امریکی پابندیاں مسترد کردیں

  • 04 May 2026
  • مسرت ڈیسک
  • دنیا
Thumb

بیجنگ، 4 مئی (مسرت ڈاٹ کام) چین کی وزارت تجارت نے ایران سے تیل خریدنے کے الزام میں پانچ ریفائنریوں پر امریکی پابندیوں کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے انہیں کالعدم اور ناقابل عمل قرار دیا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، چین اور امریکہ کے درمیان ایرانی تیل کے معاملے پر کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے، جہاں بیجنگ نے واشنگٹن کی جانب سے عائد کردہ نئی پابندیوں کو کھلے طور پر مسترد کر دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق چین کی وزارت تجارت نے ایک سرکاری حکم جاری کرتے ہوئے امریکہ کی جانب سے پانچ آزاد تیل ریفائنریوں پر لگائی گئی پابندیوں کے نفاذ کو روکنے کا اعلان کیا ہے۔ امریکہ نے ان ریفائنریوں پر ایران سے تیل خریدنے کا الزام عائد کیا تھا۔

امریکی وزارت خزانہ کے مطابق ان کمپنیوں کو امریکی مالیاتی نظام تک رسائی سے محروم کر دیا گیا ہے اور ان کے ساتھ تجارتی تعاون کرنے والی کسی بھی کمپنی کو بھی سزا کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

تاہم چین کی وزارت تجارت نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ یہ پابندیاں غیرقانونی طور پر چینی کمپنیوں کے تیسرے ممالک کے ساتھ تجارتی روابط محدود کرتی ہیں اور بین الاقوامی قوانین کے خلاف ہیں۔ چین نے واضح کیا کہ وہ ان پابندیوں کو سرکاری طور پر کالعدم اور ناقابل اجرا سمجھتا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ چین یہ اقدام اپنی خودمختاری، قومی سلامتی اور ترقیاتی مفادات کے تحفظ کے لیے کر رہا ہے اور وہ اقوام متحدہ کی منظوری کے بغیر لگائی جانے والی یکطرفہ پابندیوں کی ہمیشہ مخالفت کرتا آیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق پابندیوں کی زد میں آنے والی کمپنیوں میں ہنگلی پیٹروکیمیکل (دالیان) اور صوبہ شاندونگ میں قائم چار دیگر ریفائنریاں شامل ہیں۔ دوسری طرف امریکی حکام کا دعوی ہے کہ ان میں سے ایک کمپنی نے ایرانی تیل کے شعبے کے لیے اربوں ڈالر کی آمدنی پیدا کی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چین اپنی مجموعی تیل ضروریات کا نصف سے زیادہ مشرق وسطی سے حاصل کرتا ہے اور اس کا بڑا حصہ ایران سے خریدا جاتا ہے۔ چین نے 2025 میں ایران کی مجموعی تیل برآمدات کا 80 فیصد سے زیادہ خرید لیا ہے۔

Ads