امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس کے مطابق یہ کشیدہ تعطل فوری طور پر ختم ہوتا دکھائی نہیں دیتا جس کے باعث توانائی کی قیمتوں میں کئی ماہ تک اضافے کا امکان ہے جبکہ کسی بھی وقت کھلی جنگ بھی چھڑ سکتی ہے۔ متعدد امریکی حکام نے ایگزیوس کو بتایا ہے کہ انہیں خدشہ ہے کہ امریکہ ایک ایسے تنازع میں پھنس سکتا ہے جس میں نہ جنگ ہو اور نہ کوئی معاہدہ۔ اس صورتحال میں امریکہ کو اپنے فوجی دستے مزید کئی ماہ تک خطے میں رکھنا ہوں گے، آبنائے ہرمز بند رہے گی، امریکی ناکا بندی برقرار رہے گی اور دونوں فریق ایک دوسرے کے پہلے قدم یا حملے کا انتظار کرتے رہیں گے۔
امریکہ میں نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں اب 6 ماہ باقی ہیں اور صدر ٹرمپ کے قریبی ایک ذریعے نے کہا کہ 'جمود کا شکار تنازع ٹرمپ کے لیے سیاسی اور معاشی طور پر بدترین صورتحال ہے'۔ ٹرمپ کے مشیروں کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس وقت نئے فوجی حملے کرنے یا یہ دیکھنے کے درمیان تذبذب کا شکار ہیں کہ آیا زیادہ سے زیادہ دباؤ کی مالی پابندیاں ایران کو جوہری پروگرام ختم کرنے کے لیے مذاکرات پر آمادہ کرتی ہیں یا نہیں۔
ویب سائٹ کے مطابق ٹرمپ نے حال ہی میں ایک مشیر سے کہا کہ'ایران کے رہنما صرف بموں کی زبان ہی سمجھتے ہیں'۔ مشیر کے مطابق 'میں انہیں مایوس مگر حقیقت پسند قرار دوں گا۔ وہ طاقت کا استعمال نہیں کرنا چاہتے، لیکن پیچھے بھی نہیں ہٹ رہے'۔ ٹرمپ کے کچھ سینئر مشیر چاہتے ہیں کہ دوبارہ بمباری کا فیصلہ کرنے سے قبل فی الحال آبنائے ہرمز پر امریکی ناکہ بندی برقرار رکھی جائے اور ایران پر مزید اقتصادی پابندیاں عائد کی جائیں۔
ٹرمپ نے پیر کو اپنی قومی سلامتی ٹیم کے ساتھ ایران کی پیشکش پر بات کی جس میں ایران کی س تجویز پر غیور کیا کہ آبنائے ہرمز کھولنے کے بدلے امریکہ ایران سے آنے جانے والے جہازوں پر ناکہ بندی ختم کرے۔ ایک امریکی عہدیدار اور دو دیگر ذرائع کے مطابق اس اجلاس میں کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا، جبکہ ایک ذریعے نے کہا کہ ٹرمپ اس پیشکش کو قبول کرنے کے حق میں نظر نہیں آئے کیونکہ اس سے ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات مؤخر ہو سکتے ہیں۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت تک ناکہ بندی ختم نہیں کریں گے جب تک ایران اپنے جوہری پروگرام سے متعلق خدشات پر مبنی معاہدہ نہیں کر لیتا۔
ٹرمپ انتظامیہ کے حکام اور اتحادیوں کا خیال ہے کہ پابندیاں ایران کے لیے تیل ذخیرہ کرنا ناممکن بنا سکتی ہیں، جس سے اسے اپنے کنویں بند کرنے پڑسکتے ہیں اور معیشت کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے، تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ حکمت عملی ایران کو کسی قسم کی رعایت دینے پر مجبور نہیں کرے گی۔
