نئی دہلی، 28 اپریل (مسرت ڈاٹ کام) جامعہ ملیہ اسلامیہ ( جے ایم آئی ) کے طلبہ نے منگل کو کیمپس میں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے 100 سال مکمل ہونے کی یاد میں منعقدہ پروگرام کی شدید مخالفت کی اور اس تقریب کو سنٹرل یونیورسٹی کے وقار کے خلاف قرار دیتے ہوئے اسے منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا۔
کیمپس میں دہلی پولیس اور ریپڈ ایکشن فورس کی بھاری تعیناتی کے درمیان 50 سے زائد طلبہ نے 'جامیہ ہماری یونیورسٹی ہے، آپ کی شاکھا یا شاخ نہیں' اور 'کیمپس کی بھگوا کاری کو مسترد کرو' جیسے پوسٹرز لے کر احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے 'انقلاب زندہ باد' کے نعرے لگائے اور آڈیٹوریم کے داخلی دروازے کو بند کر دیا۔
لیفٹ ونگ کی طلبہ تنظیموں 'اسٹوڈنٹس فیڈریشن آف انڈیا' (ایس ایف آئی) اور 'آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن' (آئیسا) نے اس احتجاج کی قیادت کی۔ مظاہرہ کرنےوالے ایک طالب علم نے بتایا کہ آر ایس ایس اپنے مہمان خصوصی کو آڈیٹوریم کے اندر لے جانے کی کوشش کر رہی تھا، لیکن طلبہ نے مرکزی دروازے پر مورچہ سنبھال لیا اور آر ایس ایس عہدیداروں سے کیمپس چھوڑنے کی اپیل کی۔ آر ایس ایس سے وابستہ یہ پروگرام 'یوا کمبھ' پہل کے تحت تنظیم کی صد سالہ تقریب کی مناسبت سے منعقد کیا جا رہا تھا۔ ایس ایف آئی کے جامعہ یونٹ نے اسے 'براہِ راست اشتعال انگیزی' قرار دیا ہے۔ وہیں آئیسا نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ جامعہ میں آر ایس ایس کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ آئیسا نے الزام لگایا کہ جس تنظیم نے تحریک آزادی میں کوئی کردار ادا نہیں کیا، وہ آج اپنا اقتدار مضبوط کرنے کے لیے قوم پرستی کا کارڈ کھیل رہی ہے۔
آئیسا دہلی کے صدر اور جامعہ کے طالب علم سید نے یونیورسٹی انتظامیہ پر امتیازی سلوک کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی جامعہ ہے جہاں دیگر طلبہ گروپوں کو سکیورٹی کی مداخلت کے بغیر بحث تک کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی، لیکن آر ایس ایس کو ایئر کنڈیشنڈ ہال میں پورا پروگرام منعقد کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ انہوں نے عزم کیا کہ طلبہ اپنے جمہوری حقوق کے تحفظ کے لیے مستقبل میں بھی ایسے پروگراموں کی مخالفت جاری رکھیں گے۔ جامعہ میں منگل کو بڑھنے والی یہ کشیدگی دہلی یونیورسٹی کے ان کالجوں کے واقعات کے تناظر میں ہوئی ہے جہاں حال ہی میں آر ایس ایس سے وابستہ پروگراموں کی طلبہ اور اساتذہ کی تنظیموں نے سخت مخالفت کی تھی۔ کیمپس میں ہونے والے اس احتجاجی مظاہرے کے حوالے سے تاہم یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے اب تک کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔ ہندوستان کی مختلف جامعات میں اس نوعیت کی سرگرمیوں پر بحث تیز ہوگئی ہے۔
