امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات تعطل کا شکار ہوگئے ہیں۔ امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق مسٹر ٹرمپ اپنی قومی سلامتی ٹیم کے ساتھ اگلے اقدامات پر تبادلہ خیال کریں گے۔ حکام کے مطابق ایران کی جانب سے حال ہی میں پیش کی گئی نئی تجویز اہم امریکی شرائط پر پورا نہیں اتری۔ ایکسیوس کی رپورٹ کے مطابق ایران کی تجویز کا بنیادی محور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا اور اس اہم سمندری راستے پر امریکی بحری ناکہ بندی کو ختم کرنا تھا جبکہ جوہری مذاکرات کو بعد کے مرحلے تک ملتوی کرنا تھا۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے دورہ اسلام آباد سے ہفتے کے آخر میں نئے مذاکرات کے امکانات پیدا ہو گئے تھے۔ اسلام آباد اس سے قبل امریکہ اور ایران کے درمیان واحد براہ راست مذاکرات کی میزبانی کر چکا ہے، حالانکہ ان دوروں کے کوئی ٹھوس نتائج برآمد نہیں ہوئے۔
