ڈیر اشپیگل میگزین نے جرمن قومی سلامتی کونسل کے ارکان کے حوالے سے یہ اطلاع دی۔ میگزین نے منگل کو اپنی رپورٹ میں بتایا کہ جرمن چانسلر فریڈرک مرز کی سربراہی میں کونسل کا اجلاس ہوا، جس میں مغربی ایشیا کی صورتحال سمیت کئی اہم سیاسی اور اقتصادی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کونسل اس مشن میں حصہ لینے کے لیے دو مائن سویپرز (بارودی سرنگ ہٹانے والے جہاز) اور ایک سپلائی جہاز کی تعیناتی کی اجازت دے سکتی ہے۔
مزید برآں، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جرمنی نے 'ایسپائڈز' مشن کے ایک حصے کے طور پر اس وقت جبوتی میں تعینات ایک چھوٹے جاسوس طیارے کو بھی تعینات کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے یکم اپریل کو کہا تھا کہ وہ نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن (نیٹو) سے امریکہ کو باہر نکالنے پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں، کیونکہ اتحادی ممالک نے ایران کے خلاف امریکہ- اسرائیل جنگ میں شامل ہونے سے انکار کر دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں جنگی جہاز بھیجنے کے ان کے مطالبے کو یورپی ممالک کی جانب سے مسترد کیے جانے کے بعد اب وہ یورپ کو ایک قابل اعتماد دفاعی پارٹنر کے طور پر نہیں دیکھتے۔
