مسٹر نبین نے منگل کی رات سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ کھڑگے کی جانب سے مودی کے لیے ’دہشت گرد‘ جیسے الفاظ کا استعمال کانگریس کی گرتی سیاست کی انتہا ہے۔ یہ صرف ایک فرد پر تبصرہ نہیں بلکہ ان 140 کروڑ ہندوستانی عوام کے مینڈیٹ کی بھی توہین ہے، جنہوں نے جمہوری عمل کے ذریعے اپنا اعتماد ظاہر کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب بھی کانگریس ترقی اور حقائق کے سوالات پر گھرتی ہے، تو راہل گاندھی، سونیا گاندھی اور ان کے ساتھی ایسے بیانات دے کر اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش کرتے ہیں۔ جب ملک کی خواتین کانگریس سے اپنے حقوق کا حساب مانگ رہی ہیں، تو اس طرح کے غیر معیاری بیانات اس کی مایوسی کو ظاہر کرتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ "ایسے بیان پر کانگریس اور راہل گاندھی کو ملک سے معافی مانگنی چاہیے۔ جب بھی راہل گاندھی اور ان کے خاندان نے الفاظ کی حد پار کی ہے، عوام نے انہیں سخت جواب دیا ہے، اور اس بار بھی دے گی۔"
قابلِ ذکر ہے کہ کھڑگے نے آج تمل ناڈو میں ایک متنازع بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ انا ڈی ایم کے کے لوگ، جو خود انا دورئی کی تصویر لگاتے ہیں، وہ مودی کے ساتھ کیسے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا تھاکہ "وہ ایک دہشت گرد ہیں اور ان کی پارٹی مساوات اور انصاف پر یقین نہیں رکھتی۔"
