ایک انٹرویو میں ابراہیم عزیزی نے کہا ملکی مفادات اور سلامتی کے تحفظ کے لیے ایران کو جو بھی کرنا پڑا وہ کرے گا، امریکہ سے بات چیت کے لیے آخری حد کا تعین کر دیا ہے، اسلام آباد مذاکرات میں شرکت کا انحصار امریکہ کے مثبت اشاروں پر ہے۔ انھوں نے کہا امریکہ سے مذاکرات کو میدان جنگ کے طور پر دیکھتے ہیں، ان سے کامیابیاں ملتی ہیں تو مذاکرات متوقع ہیں، اگر یہ میدانِ جنگ کی کامیابیوں کو برقرار رکھنے میں مدد دے تو مذاکرات کا میدان بھی ہمارے لیے ایک موقع ہے، لیکن ایسا نہیں ہوگا اگر امریکی اپنے دباؤ پر مبنی رویے کے تحت اسے حد سے زیادہ مطالبات کا میدان بنانے کی کوشش کریں۔
ادھر ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ مذاکرات کے لیے وعدوں کی پاسداری پہلی شرط ہے، ماضی کی امریکی رویوں کی وجہ سے ایران میں گہری بے اعتمادی پہلے سے موجود ہے، امریکہ کا موجودہ رویہ ثابت کر رہا ہے کہ وہ مذاکرات نہیں بلکہ ایران کو جھکانا چاہتا ہے، لیکن ایرانی قوم کبھی بھی کسی کے دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گی۔
ایرانی صدر نے ایکس پر لکھا امریکا پر تاریخی عدم اعتماد اب بھی برقرار ہے، وعدوں کا احترام بامعنی بات چیت کی بنیاد ہے، امریکی حکام کی جانب سے غیر تعمیری اور متضاد اشارے تلخ پیغام دیتے ہیں، ان متضاد بیانات سے مذاکرات متاثر ہو سکتے ہیں۔
