یہ پروجیکٹ ہندوستان کے ابھرتے ہوئے ڈیجیٹل شکایات کے ازالے کے نظام کا تنقیدی جائزہ لینے نیز جواب دہی، شفافیت، اور شہری مرکوز حکومت کو یقینی بنانے میں ان کی تاثیر کا جائزہ لینے کی کوشش سے عبارت ہے۔ CPGRAMS جیسے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر بڑھتے ہوئے انحصار کے ساتھ، شکایات کے ازالے کا طریقہ کار انتظامی ردعمل کا مرکز بن گیا ہے۔ تاہم شمولیت، کارکردگی، اور نتائج پر مبنی حل کے لحاظ سے چیلنجز ہنوز برقرار ہیں، خاص طور پر پسماندہ اور کمزور آبادیوں کے لیے۔
تحقیقی منصوبہ عصری حکمرانی کے منظر نامے میں اہم ہے کیونکہ یہ کلاسیکی ہندوستانی فلسفیانہ فکر کو خاص طور پر نیایہ نظریہ کو جدید پالیسی ڈیزائن اور تشخیصی فریم ورک کے ساتھ مربوط کرتا ہے۔ تجرباتی تجزیے کے ساتھ معیاری بصیرت کو ساتھ لاتے ہوئے اس مطالعہ کا مقصد ہندوستان میں شکایات کے ازالے کے طریقہ کار کو بہتر بنانے کے لیے سیاق و سباق کے لحاظ سے بنیاد اور نظریاتی طور پر باخبر ماڈل تیار کرنا ہے۔
اس منصوبے کا بنیادی مقصد مخلوط طریقوں کا استعمال کرتے ہوئے موجودہ نظام کا جائزہ لینا ہے، جس میں مقداری اعداد و شمار کا تجزیہ اور فیلڈ پر مبنی معیاری تحقیق شامل ہے، جب کہ قابل توسیع اور شواہد پر مبنی اصلاحات کی نشان دہی کے لیے پالیسی تجربات کرنا بھی ہے۔ اس مطالعہ کا مقصد جمہوری احتساب کے نظام کو مستحکم بنانے اور حکمرانی کے اداروں میں عوام کے اعتماد کو بڑھانے میں اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ مزید یہ کہ یہ منصوبہ گڈ گورننس، ڈیجیٹل تبدیلی اور جامع عوامی خدمات کی فراہمی کی قومی ترجیحات سے ہم آہنگ ہے جو انتظامی اصلاحات اور شہریوں کو بااختیار بنانے کے وسیع تر پالیسی مقاصد میں تعاون دیتا ہے۔
ڈاکٹر پوجا پاسوان جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبہ سیاسیات میں ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں اور اسسٹنٹ ڈین،اسٹوڈینٹس ویلفیئر کے بطور اپنی خدمات انجام دیتی ہیں نیز پبلک ایڈمنسٹریشن تھیوری نیٹ ورک (پیٹ نیٹ) کی صدر کے علاوہ وہ ڈین،اسٹوڈینٹس ویلفیئر کی ٹیم کا بھی حصہ ہیں۔ ان کی تحقیق عوامی نظم و نسق کے نظریہ، عوامی پالیسی اور حکمرانی پر مرکوز ہے، یہ تحقیق ہندوستانی علمی نظاموں کو عصری انتظامی ڈھانچوں میں ضم کرنے پر خاص زور دیتی ہے۔ انہیں ایک دہائی سے زیادہ عرصہ کا تدریسی و تحقیقی تجربہ ہے اور انہوں نے عوامی انتظامیہ میں تنقیدی اور کثیر نقطہ ہائے نظر کے فروغ میں سرگرم کردار ادا کیا ہے۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ کو یہ بڑا تحقیقی پروجیکٹ ملنا، مؤثر تحقیق کے فروغ کے تئیں اس کے مسلسل عزم کا عکاس ہے جو پالیسی میں جدت اور جمہوری طرز حکمرانی کو مضبوط کرنے میں بھی ممدو معاون ہے۔
