Masarrat
Masarrat Urdu

جنگ دوبارہ شروع ہوئی تو عالمی تصادم ہوگا، ایران کی وارننگ

Thumb

تہران،19 اپریل (مسرت ڈاٹ کام) ایران کے ایک اعلیٰ فوجی عہدیدار نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کی گئی تو یہ ایک بڑی عالمی جنگ کی شکل اختیار کر سکتی ہے، جس کے اثرات خطے سے باہر بھی محسوس کیے جائیں گے۔

ایرانی فوج کے بریگیڈئیر جنرل محمد رضا نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکا کسی بھی صورت ایران کی میزائل بنانے کی صلاحیت کو ختم نہیں کر سکتا، ایران نے اپنی دفاعی پالیسی کو مزید مضبوط بنایا ہے اور ملک کی عسکری تیاری ہر ممکن خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔

بریگیڈئیر جنرل محمد رضا کا کہنا تھا کہ ایران اپنی دفاعی طاقت میں مسلسل اضافہ کر رہا ہے اور کسی بھی ممکنہ جارحیت کا بھرپور اور مؤثر جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے،اگر ایران پر مسلط کی گئی جنگ دوبارہ شروع ہوئی تو اس بار ردعمل پہلے سے کہیں زیادہ شدید ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ مہینوں میں ایران نے جدید میزائل ٹیکنالوجی میں نمایاں پیش رفت کی ہے اور ضرورت پڑنے پر ان میزائلوں کو استعمال میں لایا جائے گا، جو دشمن کے لیے غیر متوقع نتائج کا باعث بن سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اپنی دفاعی طاقت کو مزید مضبوط کر رہا ہے اور کسی بھی ممکنہ حملے کا بھرپور جواب دینے کے لیے تیار ہے۔

انہوں نے امریکہ کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایران پر مسلط جنگ دوبارہ شروع ہوئی تو اس بار ردعمل زیادہ شدید ہوگا اور حالیہ مہینے میں تیار کیے گئے جدید میزائلوں کے ذریعے جواب دیا جائے گا۔

یاد رہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری کو ایران پر بڑے پیمانے پر حملے کیے گئے تھے، جس کے بعد ایران نے بھی فوری جوابی کارروائیاں کیں۔ دونوں فریقین کے درمیان تقریباً چالیس روز تک شدید کشیدگی اور جھڑپیں جاری رہیں، جس سے خطے میں جنگ کے خدشات بڑھ گئے تھے۔ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری کو ایران پر بڑے پیمانے پر حملے کیے گئے تھے، جس کے بعد ایران نے بھی جوابی کارروائیاں کیں۔ دونوں فریقین کے درمیان تقریباً 40 روز تک شدید کشیدگی اور جھڑپیں جاری رہیں۔

بعد ازاں پاکستان کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں دونوں ممالک دو ہفتوں کی جنگ بندی پر آمادہ ہوئے۔ اس کے بعد 11 اپریل کو اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے اعلیٰ سطح کے وفود کے درمیان مذاکرات بھی ہوئے، جنہیں کشیدگی کم کرنے کی اہم پیش رفت قرار دیا گیا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے اس قسم کے بیانات خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی عکاسی کرتے ہیں اور اگر سفارتی کوششیں ناکام ہوئیں تو صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے۔

 

Ads