عباس عراقچی نے پیر کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ’’کوئی سبق نہیں سیکھا گیا۔ خیر سگالی سے خیر سگالی جنم لیتی ہے اور دشمنی سے دشمنی۔‘‘ ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ گزشتہ 47 برسوں میں اعلیٰ ترین سطح پر ہونے والے ان مذاکرات میں ایران نے جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ سے نیک نیتی کے ساتھ بات چیت کی، تاہم "اسلام آباد ایم او یو" کے قریب پہنچنے پر امریکی جانب سے سخت شرائط اور ناکہ بندی کے اعلان کا سامنا کرنا پڑا۔
واضح رہے کہ یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے مذاکرات کی ناکامی کا حوالہ دیتے ہوئے ایران کی بحری ناکہ بندی کا حکم دیا ہے۔
