Masarrat
Masarrat Urdu

نامور گلوکارہ آشا بھوسلے کا انتقال ، فنِ موسیقی کی دنیا ایک عہد سے محروم

Thumb

ممبئی ، 12 اپریل (مسرت ڈاٹ کام) ہندوستانی موسیقی کی نامور اور لیجنڈری پلے بیک سنگر آشا بھوسلے کا آج انتقال ہو گیا، جس سے فنِ موسیقی کی دنیا ایک عظیم آواز سے محروم ہو گئی۔

اطلاعات کے مطابق آشا بھوسلے کو دل کا دورہ پڑنے کے بعد اسپتال میں داخل کیا گیا تھا، جہاں وہ زیرِ علاج تھیں، تاہم وہ جانبر نہ ہو سکیں۔ ان کے انتقال کی تصدیق ان کے بیٹے آنند بھوسلے نے کی۔

آنند بھوسلے نے بتایا کہ ان کی والدہ کی میت کو کل صبح 11 بجے سے دوپہر 2 بجے تک ان کی رہائش گاہ پر آخری دیدار کے لیے رکھا جائے گا، جس کے بعد شام 4 بجے ممبئی کے شیواجی پارک میں ان کی آخری رسومات ادا کی جائیں گی۔

آشا بھوسلے بھارتی موسیقی کی تاریخ کی ایک بے مثال آواز تھیں، جنہوں نے کئی دہائیوں تک اپنی گائیکی سے کروڑوں مداحوں کے دلوں پر راج کیا۔ انہوں نے مختلف زبانوں میں ہزاروں گانے گائے اور اپنی ہمہ جہتی صلاحیت کے باعث عالمی شہرت حاصل کی۔

ان کے انتقال کی خبر کے بعد ملک بھر میں سوگ کی فضا قائم ہو گئی ہے اور فنکاروں، مداحوں اور سیاسی شخصیات کی جانب سے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا جا رہا ہے۔

نامور پلے بیک سنگر آشا بھوسلے کے انتقال پر فلمی اور موسیقی کی دنیا میں گہرے رنج و غم کی لہر دوڑ گئی ہے، جہاں ملک بھر کے فنکاروں نے انہیں زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کی بے مثال خدمات کو یاد کیا۔

بالی ووڈ کے سپر اسٹار شاہ رخ خان نے گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’آشا تائی کے انتقال کی خبر انتہائی افسوسناک ہے۔ ان کی آواز بھارتی سنیما کے ستونوں میں سے ایک تھی اور میں انہیں بے حد یاد کروں گا۔‘‘ ان کے اس بیان نے ملک بھر کے جذبات کی عکاسی کی۔

معروف اداکار کمل ہاسن نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے آشا بھوسلے کے ساتھ اپنی یادوں کو تازہ کیا اور انہیں ایک ابدی گلوکارہ اور قریبی دوست قرار دیا۔

مشہور گلوکار ہری ہرن نے کہا کہ آشا بھوسلے بھارت کی عظیم ترین موسیقی شخصیات میں سے ایک تھیں اور سات دہائیوں پر محیط ان کی خدمات کسی عام انسان کے بس کی بات نہیں تھیں، بلکہ وہ ایک خدائی عطیہ تھیں۔

اداکار جیکی شروف نے جذباتی انداز میں کہا کہ آشا جی ان کے دل میں اس قدر بس چکی ہیں کہ وہ کبھی بھی ان کی کمی محسوس نہیں کریں گے، کیونکہ وہ ان کے لیے ہمیشہ زندہ رہیں گی۔

موسیقار اور گلوکار شنکر مہادیون نے اس دن کو موسیقی کی دنیا کے لیے ایک سیاہ دن قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ آشا بھوسلے کو سرسوتی ماتا کا روپ سمجھتے تھے اور ان کی آواز ہمیشہ دنیا بھر میں گونجتی رہے گی۔

فنکاروں کی جانب سے خراجِ عقیدت کا سلسلہ جاری ہے اور ہر کوئی اس بات پر متفق ہے کہ آشا بھوسلے کا انتقال صرف ایک عظیم گلوکارہ کا نقصان نہیں بلکہ بھارتی موسیقی کے ایک سنہرے باب کا اختتام ہے۔ ان کے لازوال گیت آنے والی نسلوں تک گونجتے رہیں گے اور ان کی میراث ہمیشہ زندہ رہے گی۔

 

 

Ads