وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے میڈیا کے سوالات کے جواب میں کہا کہ اروناچل پردیش سمیت یہ تمام علاقے ہندوستان کا لازمی اور اٹوٹ حصہ تھے، ہیں اور ہمیشہ رہیں گے۔ انہوں نے کہاکہ "ہندوستان، چین کی جانب سے ہندوستانی علاقے میں آنے والے مقامات کو فرضی نام دینے کی کسی بھی شرارت کو صاف طور پر مسترد کرتا ہے۔"
ترجمان نے مزید کہا کہ چین کی یہ کارروائیاں ہند-چین تعلقات کو مستحکم اور معمول پر لانے کی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ چین کو ایسے اقدامات سے بچنا چاہیے جو تعلقات میں منفی اثرات ڈالیں اور بہتر سمجھ بوجھ پیدا کرنے کی کوششوں کو نقصان پہنچائیں۔
انہوں نے کہا کہ چین کے جھوٹے دعوے اور بے بنیاد کہانیاں اس ناقابلِ تردید حقیقت کو نہیں بدل سکتے کہ یہ علاقے، جن میں اروناچل پردیش بھی شامل ہے، پہلے بھی، اب بھی اور ہمیشہ ہندوستان کا لازمی اور ناقابلِ تقسیم حصہ رہیں گے۔
قابلِ ذکر ہے کہ چین نے ایک بار پھر اروناچل پردیش کے کچھ حصوں کے نام بدلنے کی کوشش کی ہے۔
