کھڑگے نے کہا کہ یہ قانون ستمبر 2023 میں پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر منظور کیا تھا اور اس وقت کانگریس نے اس کے فوری نفاذ کا مطالبہ کیا تھا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت نے اُس وقت اسے نافذ نہیں کیا، جبکہ اب 30 ماہ بعد بغیر اپوزیشن کو اعتماد میں لیے خصوصی اجلاس طلب کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے اپنے خط میں کہا کہ حدبندی سے متعلق کوئی واضح معلومات فراہم نہیں کی گئی ہیں، جس کی وجہ سے اس اہم قانون پر بامعنی بحث ممکن نہیں ہو سکے گی۔ مسٹر کھڑگے نے یہ بھی کہا کہ حکومت کا یہ دعویٰ درست نہیں کہ اس معاملے پر سیاسی جماعتوں سے مشاورت کی گئی ہے۔ اپوزیشن مسلسل 29 اپریل 2026 کے بعد کل جماعتی میٹنگ بلانے کا مطالبہ کر رہی ہے۔
کانگریس صدر نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ جاری اسمبلی انتخابات کے دوران خصوصی اجلاس طلب کرنا حکومت کی سیاسی نیت کو ظاہر کرتا ہے اور یہ قدم خواتین کو بااختیار بنانے کے بجائے سیاسی فائدے کے لیے اٹھایا گیا معلوم ہوتا ہے۔
انہوں نے حکومت کے سابقہ فیصلوں جیسے نوٹ بندی، جی ایس ٹی، مردم شماری اور وفاقی ڈھانچے سے جڑے مسائل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات سے اعتماد قائم نہیں ہوتا۔ مسٹر کھڑگے نے مشورہ دیا کہ اگر حکومت واقعی جمہوریت کو مضبوط کرنا چاہتی ہے تو 29 اپریل کے بعد کل جماعتی اجلاس بلا کر تمام فریقوں اور ریاستوں سے وسیع پیمانے پر مشاورت کی جائے۔
