اسلام آباد، 11 اپریل (مسرت ڈاٹ کام) پاکستان میں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا دور آج ہفتہ کے روز شروع ہو رہا ہے، جبکہ تہران لبنان میں جنگ بندی اور اپنے منجمد اثاثوں کی واگزاری جیسی شرائط پر سختی سے قائم ہے، جس نے مذاکراتی عمل کو ابتدائی مرحلے میں ہی کڑے امتحان میں ڈال دیا ہے۔
تہران نے اس بات پر زور دیا ہے کہ وہ واشنگٹن کے ساتھ کسی بھی صورت میں مذاکرات صرف اسی وقت کرے گا جب اس کی پیشگی شرائط پوری کی جائیں گی۔اس سلسلے میں قاليباف نے امریکہ کے ساتھ کسی بھی بات چیت کے آغاز سے قبل لبنان میں جنگ بندی اور منجمد ایرانی اثاثوں کی بحالی کی ضرورت پر زور دیا ہے، جبکہ امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کر رہے ہیں۔
اسلام آباد پہنچنے کے بعد قاليباف نے واضح کیا کہ تہران کسی بھی معاہدے تک پہنچنے کے لیے تیار ہے بشرطیکہ واشنگٹن کی جانب سے کوئی حقیقی پیشکش سامنے آئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کا ملک نیک نیتی رکھتا ہے لیکن اسے امریکہ پر بھروسہ نہیں ہے۔
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ نے اپنے اس موقف کا اعادہ کیا ہے کہ جنگ بندی کے کسی بھی معاہدے میں لبنان کو لازمی شامل ہونا چاہیے، کیونکہ یہ خطے میں مکمل امن کی جانب ایک بنیادی قدم ہے۔
اے بی سی نیوز (ABC News) کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس ایرانی وفد کے ساتھ مذاکرات کی تیاریوں کے سلسلے میں قومی سکیورٹی کونسل، وزارت خارجہ اور وزارت دفاع کے حکام کے ہمراہ پاکستانی دارالحکومت پہنچ چکے ہیں۔ویب سائٹ ایکسیوس (Axios) نے امریکی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ جے ڈی وینس نے صدر ٹرمپ سے تہران کے ساتھ سفارتی عمل میں براہِ راست کردار ادا کرنے کی درخواست کی تھی۔ رپورٹ کے مطابق ان کی جانب سے امریکی وفد کی قیادت کرنے کی ایک وجہ ایرانی حکام اور ٹرمپ کے ایلچیوں بشمول اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کے درمیان پچھلے دو ادوار کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی ہے۔
دریں اثناء ایجنسی فارس نے اطلاع دی ہے کہ ایرانی وفد آج قبل از دوپہر پاکستانی وزیراعظم سے ملاقات کرے گا، جس کے بعد اگر واشنگٹن تہران کی پیشگی شرائط تسلیم کر لیتا ہے تو امریکی وفد کے ساتھ مذاکرات کا سیشن ہوٹل سرینا میں منعقد کیا جائے گا۔
