اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر 482 الفاظ کے ایک تندوتیز پیغام میں، ٹرمپ نے انہیں ایسے "فسادی" قرار دیا جو "مفت اور سستی شہرت کے لیے کچھ بھی کہنے کو تیار رہتے ہیں۔" ٹرمپ نے کہا کہ یہ صحافی—ٹکر کارلسن، میگن کیلی، کینڈس اوونز، اور ایلکس جونز—برسوں سے ان کے خلاف لڑ رہے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ ایران کے لیے یہ بہت اچھا ہے۔
ایران کو "دہشت گردی کا سب سے بڑا ریاستی سرپرست" قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ (صحافی) سمجھتے ہیں کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار ہونا بہت اچھی بات ہے۔ "کیونکہ ان سب میں ایک چیز مشترک ہے، اور وہ ہے کم آئی کیو۔ یہ بیوقوف لوگ ہیں، یہ خود بھی جانتے ہیں، ان کے خاندان بھی جانتے ہیں، اور باقی سب بھی یہ جانتے ہیں۔" ٹرمپ نے کہا کہ ماگا کا مقصد جیتنا اور طاقت کا مظاہرہ کرنا ہے تاکہ ایران کو ایٹمی ہتھیاروں سے روکا جا سکے۔ ماگا کا مقصد امریکہ کو پھر سے عظیم بنانا ہے۔
انہوں نے مزید کہا، "ماگا مجھ سے اتفاق کرتا ہے، اور اس نے ابھی سی این این پر ٹرمپ کو 100 فیصد ریٹنگ دی ہے، نہ کہ ہاتھ لہرانے والے بے وقوفوں جیسے ٹکر کارلسن یا میگن کیلی کو، جنہوں نے مجھ سے وہ مشہور ' اونلی روزی او ڈونل' والا بدتمیزی سے سوال پوچھا تھا۔ یا 'پاگل' کینڈس اوونز، جو فرانس کی انتہائی معزز خاتونِ اول پر مرد ہونے کا الزام لگاتی ہیں، جبکہ وہ ایسی نہیں ہیں۔ یا 'دیوالیہ' ایلکس جونز، جو انتہائی احمقانہ باتیں کرتے ہیں۔"
ٹرمپ نے کہا، "یہ نام نہاد پنڈت 'ہارے ہوئے' ہیں اور ہمیشہ رہیں گے۔" سی این این، نیویارک ٹائمز اور دیگر تمام "انتہا پسند بائیں بازو" کے خبررساں اداروں پر دوبارہ حملہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ اپنی زندگی میں پہلی بار ان صحافیوں کی "واہ واہ" کر رہے ہیں اور انہیں "مثبت" کوریج دے رہے ہیں۔ "وہ ماگا نہیں ہیں، وہ ہارے ہوئے لوگ ہیں جو صرف ماگا کا سہارا لینے کی کوشش کر رہے ہیں۔"
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ صدر کی حیثیت سے وہ جب چاہیں انہیں اپنی طرف کر سکتے ہیں، لیکن وہ ان کی کالز کا جواب نہیں دیتے، اور چند بار کے بعد وہ "بدتمیزی" پر اتر آتے ہیں۔ حالیہ اشتعال انگیزی ان صحافیوں کی جانب سے ٹرمپ انتظامیہ کے ایران پر فوجی حملوں کے فیصلے پر عوامی تنقید کے بعد سامنے آئی ہے۔
ٹکر کارلسن، جو فاکس نیوز کے سابق میزبان اور بااثر پوڈ کاسٹر ہیں، نے ایران آپریشن کو "انتہائی گھناؤنا اور شرمناک" قرار دیا تھا۔ ٹرمپ نے جواب میں انہیں ایک "شکستہ حال شخص" کہا جسے "کسی اچھے ماہرِ نفسیات کو دکھانا چاہیے۔"
میگن کیلی نے حال ہی میں یہ تجویز دی تھی کہ ایرانی تہذیب کے خلاف ٹرمپ کی دھمکیاں "عام شہریوں کی بڑے پیمانے پر نسل کشی کے حوالے سے لاپروائی " پر مبنی تھیں۔ کینڈس اوونز نے تو 25 ویں ترمیم کے ذریعے ٹرمپ کو ہٹانے کا مطالبہ کر دیا اور انہیں ایران جنگ پر "نسل کش دیوانہ" قرار دیا۔ ایلکس جونز، جو طویل عرصے تک ٹرمپ کے حامی رہے، وہ بھی اس تنازع پر ان کے خلاف ہو گئے ہیں۔
یہ دراڑ 'ماگا تحریک' کے اندر ایک بڑی تقسیم کی نشاندہی کرتی ہے۔ جہاں کبھی یہ شخصیات حلیف سمجھی جاتی تھیں، اب خارجہ پالیسی—خاص طور پر ایران جنگ اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات—پر اختلاف نے ٹرمپ کو انہیں "تیسرے درجے کے پوڈ کاسٹرز" قرار دے کر لاتعلقی کا اظہار کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
