Masarrat
Masarrat Urdu

تہران میں دھماکے، کرگ پل تباہ، اسرائیل کے کئی علاقوں میں میزائلوں کے ٹکڑے گرنے سے نقصان

  • 03 Apr 2026
  • مسرت ڈیسک
  • دنیا
Thumb

دوبئی، 3 اپریل (مسرت ڈاٹ کام) اسرائیلی فوجی ریڈیو نے تل ابیب کے بڑے علاقے میں کئی مقامات پر میزائلوں کے گرنے کا اعلان کیا ہے ۔ اسرائیل کے ’’ چینل 13 ‘‘ نے تصدیق کی ہے کہ دفاعی نظام نے یمن سے داغے گئے ایک میزائل کو فضا میں ہی تباہ کر دیا۔

اسرائیلی ہوم فرنٹ کمانڈ نے لبنان سے میزائلوں کی نشاندہی کے بعد شمالی اسرائیل کے علاقے مسغاف عام میں سائرن بجنے کی اطلاع دی ہے۔ اسرائیلی چینل 12 نے بیت شیمش کے علاقے اور مقبوضہ بیت المقدس کے قرب و جوار میں میزائلوں کے ٹکڑے گرنے کی ابتدائی اطلاع دی ہے اور بتایا ہے کہ ہنگامی امدادی ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ کی طرف روانہ کر دی گئی ہیں۔

ایران کے خلاف جنگ کے 34 ویں دن جمعرات کو تہران بھر میں زور دار دھماکے ہوئے جس سے دارالحکومت کی عمارتیں لرز گئیں اور کرگ شہر میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ امریکی صدر صدر ٹرمپ نے "بی ون" پل کو تباہ کرنے کا اعلان کیا۔

مقامی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ فوری طور پر نشانہ بننے والے مقامات کی وضاحت نہیں ہو سکی تاہم تہران کے مرکز کے رہائشیوں نے دھماکے محسوس کیے۔"روزنامہ شرق" سمیت مقامی میڈیا نے شہر کے مغرب اور مشرق میں دھماکوں کی اطلاع دی ہے۔

نیوز ایجنسی "فارس" کے مطابق ایک فضائی حملے میں دارالحکومت تہران کو مغربی شہر کرگ سے ملانے والی ہائی وے کے ایک پل کو نشانہ بنایا گیا۔ ایجنسی نے مزید بتایا کہ ابتدائی اندازوں کے مطابق کئی افراد زخمی ہوئے ہیں اور کرگ کے دیگر علاقوں پر بھی بمباری کی گئی ہے۔

ایجنسی نے یہ بھی بتایا کہ نشانہ بنایا گیا پل مشرق وسطیٰ کا سب سے اونچا پل ہے جس کا افتتاح رواں سال کے شروع میں ہوا تھا۔

اسی طرح ایران کے شمال مشرق میں واقع شہر مشہد کے ہوائی اڈے کے قریب دھوئیں کے بڑے بادل اٹھتے دیکھے گئے جو مشترکہ فضائی حملوں میں تیل کے ایک ٹینک کے دھماکے کے نتیجے میں پیدا ہوئے۔

دوسری جانب اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایران کے ایک نئے میزائل حملے کا جواب دے رہی ہے جو چھ گھنٹوں کے دوران چوتھا حملہ ہے۔ اسی دوران ایرانی فوج نے امریکہ اور اسرائیل پر تباہ کن حملوں کی دھمکی دی ہے۔

یہ ایرانی ردعمل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آنے والے ہفتوں میں اسلامی جمہوریہ پر شدید حملوں اور اسے پتھر کے دور میں واپس بھیجنے کی دھمکیوں کے بعد سامنے آیا ہے۔ ایرانی مسلح افواج کی متحدہ کمانڈ کے ایک ترجمان نے امریکہ اور اسرائیل کو مزید تباہ کن، وسیع اور مہلک اقدامات سے خبردار کیا۔

اسرائیل میں شمالی اسرائیل کے کئی مقامات پر سائرن بجنے کے ساتھ ہی اسرائیلی فوج کے جاری کردہ بیان کے مطابق اسرائیلی افواج نے ایران سے ریاستِ اسرائیل کی طرف داغے گئے میزائلوں کی نشاندہی کی اور بتایا کہ دفاعی نظام انہیں روکنے کے لیے کام کر رہا ہے۔

قبل ازیں اسرائیلی فوج نے اعلان کیا تھا کہ فضائی دفاعی نظام نے جمعرات کی صبح ایران کے تین میزائل حملوں کو ناکام بنا دیا۔ میڈیا رپورٹس میں تل ابیب کے علاقے میں معمولی زخموں کی اطلاع دی گئی۔ تیسرا حملہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ کی جنگ سے متعلق قوم سے خطاب کے کچھ دیر بعد ہوا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ان کے اہلکاروں کو وسطی اسرائیل کے متاثرہ مقامات پر طلب کیا گیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ان مقامات کی تعداد نو بتائی گئی ہے۔ طبی عملے کے حوالے سے رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ چار افراد معمولی زخمی ہوئے ہیں۔

اسرائیلی میڈیا نے واضح کیا ہے کہ ایک نسبتاً بڑے علاقے میں ہونے والا نقصان کلسٹر ایمونیشن کی وجہ سے ہوا ہے جو فضا میں پھٹ کر چھوٹے بم بکھیرتے ہیں۔ ایران اور اسرائیل پہلے بھی ایک دوسرے پر کلسٹر بموں کے استعمال کے الزامات لگا چکے ہیں۔ پہلے حملے کے دو گھنٹے سے بھی کم وقت کے بعد فوج نے اعلان کیا کہ اس نے ایک بار پھر ایران سے اسرائیلی سرزمین کی طرف داغے گئے میزائلوں کی نشاندہی کی ہے۔ انہیں میزائلوں کی وجہ سے شمالی اور وسطی اسرائیل کے بیشتر حصوں میں سائرن بجنے لگے۔

تھوڑی دیر بعد ایک علیحدہ بیان میں کہا گیا کہ شہریوں کو پورے ملک میں محفوظ مقامات سے نکلنے کی اجازت ہے۔ دوسرے حملے کے نتیجے میں کسی جانی یا مالی نقصان کی فوری اطلاع نہیں ملی۔ ایران میں ایرانی میڈیا نے آج تہران کے کئی علاقوں میں دھماکوں کی اطلاع دی ہے۔ بندر عباس کی بندرگاہ پر بھی انتہائی زور دار دھماکوں کی خبریں موصول ہوئی ہیں۔

اہواز شہر میں شدید بمباری ریکارڈ کی گئی جو پاسدارانِ انقلاب کے ایک ہیڈ کوارٹر کو نشانہ بنانے کے ساتھ بیک وقت ہوئی۔ شیراز شہر میں "بسیج" فورسز کے ایک مرکز کے قریب دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ قشم جزیرے میں سرکاری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ ادھر اسرائیلی فوج نے تہران کے وسط میں فوجی بنیادی ڈھانچے پر فضائی حملوں کی ایک وسیع لہر شروع کرنے کا اعلان کیا اور بتایا کہ اسلحہ سازی کے تقریباً 15 مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

بدلے میں امریکی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس نے ایک ماہ سے زائد عرصے سے جاری تنازع کے دوران ایران میں 12,300 سے زیادہ اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔ خطے میں امریکی افواج کی ذمہ دار امریکی سینٹرل کمانڈ نے بدھ کو اپنی ایک اپ ڈیٹ میں بتایا کہ اس کی افواج نے جنگ کے آغاز سے اب تک نشانہ بنائے گئے 12,300 سے زیادہ اہداف میں سے 155 سے زیادہ ایرانی بحری جہازوں کو نقصان پہنچایا یا تباہ کر دیا ہے۔

سینٹ کام نے مزید کہا ک ہسینٹرل کمانڈ کی افواج ایرانی حکومت کے حفاظتی ڈھانچے کو توڑنے کے لیے اہداف کو نشانہ بنا رہی ہیں۔ ان اہداف میں ان مقامات کو ترجیح دی جا رہی ہے جو فوری خطرہ پیدا کرتے ہیں۔

یاد رہے اسرائیل اور امریکہ 28 فروری سے ایران پر مسلسل حملے کر رہے ہیں۔ دوسری طرف ایران اسرائیل اور خلیجی خطے میں امریکی اتحادیوں پر حملوں کے ذریعے جواب دے رہا ہے۔

 

 

Ads