پنت نے بیٹنگ میں زیادہ ذمہ داری لینے کا ارادہ ظاہر کرتے ہوئے کہا، "اوپننگ کرنا ایک '50-50' فیصلہ ہے، لیکن آپ مجھے یقینی طور پر ٹاپ آرڈر میں بیٹنگ کرتے ہوئے دیکھیں گے۔" اپنی وکٹ گنوانے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ اس پر زیادہ سوچنے کے بجائے آگے بڑھنا بہتر ہے، کیونکہ اس کے بارے میں سوچنا آپ کو مزید دباؤ میں ڈال دیتا ہے۔
ٹیم کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے لکھنؤ کے کپتان نے اعتراف کیا کہ 141 رنز کا ہدف کافی نہیں تھا، جس کی وجہ سے گیند بازوں کے پاس غلطی کی گنجائش بہت کم رہ گئی تھی۔ انہوں نے کہا، "جب آپ 140 کا اسکور بناتے ہیں تو آپ بہت زیادہ کوشش کرنے لگتے ہیں۔ اگر حریف ٹیم نارمل کرکٹ کھیلے تو وہ جیت جاتی ہے۔ پاور پلے میں چند اضافی وکٹیں انہیں دباؤ میں لا سکتی تھیں۔" انہوں نے مزید بتایا کہ شروع میں پچ سے مدد مل رہی تھی لیکن شراکت داری نہ ہونے کی وجہ سے ٹیم فائدہ نہیں اٹھا سکی۔
رشبھ پنت نے بیٹنگ کی حکمتِ عملی اور آیوش بدونی کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ وہ مڈل اوورز میں جارحانہ کھیل کے لیے تھے جبکہ میں ٹاپ آرڈر میں کھیلنا چاہتا تھا۔ ہم دائیں اور بائیں ہاتھ کے بلے بازوں کا کمبینیشن چاہتے تھے تاکہ حریف ٹیم کے لیفٹ آرم اسپنر کو سیٹ ہونے کا موقع نہ ملے، لیکن میں غلط وقت پر آؤٹ ہو گیا۔
شکست کے باوجود پنت نے گیند بازی کے شعبے میں مثبت پہلوؤں کی نشاندہی کی۔ محمد شامی نے کے ایل راہل کو صفر پر آؤٹ کیا، جبکہ محسن خان نے نتیش رانا کی وکٹ لی۔ نوجوان تیز گیند باز پرنس یادو نے بھی متاثر کیا اور پاور پلے کے دوران پتھم نسانکا اور کپتان اکشر پٹیل کو آؤٹ کیا۔ تاہم، کم اسکور کی وجہ سے دہلی کیپیٹلز واپسی کرنے اور ہدف حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔
