واشنگٹن، 3 اپریل (مسرت ڈاٹ کام) امریکی محکمہ دفاع نے فوج کے چیف آف سٹاف جنرل رینڈی جارج کی ریٹائرمنٹ کی تصدیق کر دی ہے جبکہ آرمی کے موجودہ وائس چیف آف اسٹاف جنرل کرسٹوفر لانیو کو عبوری طور پر نیا چیف مقرر کیا جا رہا ہے۔
قبل ازیں امریکی سی بی ایس نیوز کو ذرائع نے بتایا تھا کہ سیکریٹری دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے فوج کے چیف آف سٹاف جنرل رینڈی جارج کو عہدہ چھوڑنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔\
جنرل رینڈی جارج کو سنہ 2027 تک اس عہدے پر رہنا تھا۔
سی بی ایس نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ ہیگسیتھ چاہتے تھے کہ جنرل رینڈی جارج کی جگہ ایسا افسر اس عہدے پر لایا جائے جو امریکی فوج کے لیے صدر ٹرمپ اور ان کے وژن پر عملدرآمد کرے۔
ایک سینئر دفاعی عہدیدار نے بتایا کہ جنرل جارج کی خدمات قابلِ قدر ہیں، تاہم اب فوج میں قیادت کی تبدیلی کا وقت آ چکا تھا۔
درہں اثنا پینٹاگون کے ترجمان شان پارنیل نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک بیان میں کہا کہ: ’جنرل رینڈی اے جارج فوری طور پر امریکی فوج کے 41ویں چیف آف سٹاف کے عہدے سے ریٹائر ہو رہے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ محکمہ دفاع جنرل جارج کی دہائیوں پر محیط خدمات پر ان کا شکر گزار ہے۔
جنرل رینڈی جارج ایک تجربہ کار انفنٹری افسر رہے ہیں اور یو ایس ملٹری اکیڈمی سے فارغ التحصیل ہیں
انہوں نے پہلی خلیجی جنگ، عراق اور افغانستان کی جنگوں میں خدمات انجام دیں، جبکہ انہیں 2023 میں سابق صدر جو بائیڈن کی جانب سے اس عہدے کے لیے نامزد کیا گیا تھا اور ان کی مدت 2027 تک متوقع تھی۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پیٹ ہیگسیٹھ پہلے ہی درجنوں سینئر فوجی افسران کو عہدوں سے ہٹا چکے ہیں، جن میں جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے چیئرمین سی کیو براؤن، نیول آپریشنز کی سربراہ لزا فرانچیٹی اور دیگر اعلیٰ عہدیدار شامل ہیں۔
خیال رہے کہ جنرل جارج کو ہٹانے کا فیصلہ حالیہ ہیلی کاپٹر واقعے سے متعلق نہیں بلکہ وسیع تر قیادت کی تبدیلی کی پالیسی کا حصہ ہے جس کے تحت امریکی فوجی ڈھانچے میں بڑی تبدیلیاں متوقع ہیں۔
