مودی نے آل انڈیا ریڈیو سے نشر ہونے والے اپنے ماہانہ پروگرام ’من کی بات‘ کی 132ویں قسط میں عوام کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مغربی ایشیا کے بحران سے ہندوستان بھی متاثر ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ اس مسئلے کو سیاسی رنگ دے رہے ہیں، انہیں ایسا نہیں کرنا چاہیے کیونکہ یہ 140 کروڑ شہریوں کے مفاد سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔ افواہیں پھیلانے والے ملک کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ حکومت مسلسل درست معلومات فراہم کر رہی ہے، اسی پر بھروسہ کریں۔
وزیر اعظم نے کہا کہ مارچ کا مہینہ عالمی سطح پر بہت واقعات ہوئے ہیں۔ کووڈ کے بعد دنیا کو امید تھی کہ ترقی کی نئی شروعات ہوگی، لیکن مختلف خطوں میں جنگ اور تنازعے ابھرے۔ اب وہاں نہایت نازک صورتحال ہے اور کروڑوں ہندوستانی خاندانوں کے افراد خاص طور پر خلیجی ممالک میں کام کر رہے ہیں۔
مودی نے خلیجی ممالک کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایک کروڑ سے زیادہ ہندوستانیوں کو ہر طرح کی مدد دی۔ اب تک 3.75 لاکھ سے زیادہ ہندوستانی محفوظ طور پر واپس لائے جا چکے ہیں۔ ایران سے تقریباً 1000 ہندوستانی، جن میں 700 سے زیادہ میڈیکل طلبہ شامل ہیں، بھی وطن واپس لوٹ چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ علاقہ ہندوستان کی توانائی ضروریات جیسے خام تیل اور گیس کا اہم مرکز ہے۔ جنگ کے سبب دنیا بھر میں پٹرول، ڈیزل اور گیس کا بحران پیدا ہو رہا ہے۔ *اسٹریٹ آف ہرمز* سے جہازوں کی آمدورفت مشکل ہو گئی ہے، جس سے تجارتی راستے متاثر ہیں۔ حکومت ایندھن کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے مسلسل کوشش کر رہی ہے۔ گھریلو ایل پی جی صارفین کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ ملک میں اسٹریٹجک پیٹرولیم ریزرو 5.3 ملین ٹن سے زیادہ ہے اور اسے مزید بڑھایا جا رہا ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ اس بحران میں قوم کو متحد رہنا چاہیے اور افواہوں سے بچنا چاہیے۔
