بلومبرگ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے خلاف جاری جنگ کے نتیجے میں خطہ ایٹمی خطرات سے آزاد ہو سکتا ہے اور اس کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں نئے اقتصادی مواقع پیدا ہوں گے۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ خطے میں امن اور تعاون کو فروغ دینے کے لیے معاہدہ ابراہیمی اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
واضح رہے کہ معاہدہ ابراہیمی دراصل مختلف معاہدوں کا ایک مجموعہ ہے جس کا مقصد اسرائیل اور متعدد مسلم ممالک کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانا اور سفارتی روابط کو باضابطہ شکل دینا ہے۔
ان معاہدوں میں دو طرفہ سمجھوتے شامل ہیں جو تجارت، سلامتی اور دیگر شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے پر مرکوز ہیں جبکہ امریکہ اس عمل میں ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے۔
