Masarrat
Masarrat Urdu

تہران، اصفہان، تبریز اور شہر کرد میں پاسداران انقلاب کے مراکز پر اسرائیلی فضائی حملے

  • 24 Mar 2026
  • مسرت ڈیسک
  • دنیا
Thumb

دوبئی، 24 مارچ (مسرت ڈاٹ کام) تہران، واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان جاری جنگ کے تناظر میں امریکی انسٹی ٹیوٹ فار اسٹڈی آف وار نے منگل کے روز اطلاع دی ہے کہ جنوبی تہران میں بسیج کے مرکزی یونٹ کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کی فضائی کارروائیوں میں تہران، اصفہان، تبریز اور شہر کرد میں پاسداران انقلاب کے مراکز اور تہران میں الیکٹرونکس و میزائل سازی کے تحقیقی اداروں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی 'فارس' کے مطابق وسطی اصفہان اور جنوب مغربی خرم شہر میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے ہوئے ہیں۔ اصفہان میں گیس انتظامیہ کی عمارت اور گیس پریشر کم کرنے والے اسٹیشن کو نقصان پہنچا، جبکہ خرم شہر میں پاور جنریشن پلانٹ کی گیس پائپ لائن کے قریب ایک گولہ گرا، تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

دوسری جانب ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن نے منگل کی صبح اسرائیل کی طرف میزائلوں کی نئی لہر داغنے کا اعلان کیا۔ العربیہ اور الحدث کے نمائندوں کے مطابق تل ابیب اور شمالی اسرائیل میں ان میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا۔ اس سے قبل پیر کی شام بندر عباس میں پاسداران انقلاب اور ایرانی فوج کے گوداموں کو فضائی حملے کا نشانہ بنایا گیا، جبکہ تہران، اصفہان، تبریز اور بوشہر میں بھی زوردار دھماکے سنے گئے۔

اسرائیلی فوج نے پیر کی شام ایران سے داغے گئے میزائلوں کی تصدیق کی۔ اطلاعات کے مطابق جنوبی اسرائیل میں ڈیمونا کے مقام پر دو میزائل گرا دیے گئے جبکہ تیسرا کھلے میدان میں گرا۔ ایلات اور حیفہ میں بھی سائرن بج اٹھے اور حیفہ میں میزائل کے ٹکڑے گرنے سے مالی نقصان ہوا۔

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز ایران کے بجلی گھروں پر فوجی حملے 5 دن کے لیے ملتوی کرنے کی ہدایت جاری کی۔ انہوں نے 'ٹروتھ سوشل' پر دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو روز میں امریکہ اور ایران کے درمیان مشرق وسطیٰ میں دشمنی کے خاتمے کے لیے "انتہائی اچھے اور تعمیری" مذاکرات ہوئے ہیں، اس لیے نتائج برآمد ہونے تک حملے روک دیے جائیں۔

تاہم ایرانی وزارت خارجہ نے ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کو محض وقت گزاری اور توانائی کی قیمتیں کم کرنے کی کوشش قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔ ایرانی حکام نے واضح کیا کہ تناؤ کم کرنے کی تجاویز امریکہ کو دی جانی چاہئیں کیونکہ جنگ ایران نے شروع نہیں کی۔ ایک طرف ایرانی حکام امریکہ سے کسی بھی رابطے کی تردید کر رہے ہیں، تو دوسری جانب دفتر خارجہ کے ایک سینئر اہل کار نے 'سی بی ایس' کو بتایا کہ ایران کو ثالثوں کے ذریعے امریکی تجاویز موصول ہوئی ہیں جن کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ 28 فروری سے شروع ہونے والی اس جنگ میں امریکہ اور اسرائیل نے تہران سمیت مختلف علاقوں میں ہزاروں فضائی حملے کیے ہیں جن میں میزائل لانچنگ پیڈز، فوجی تنصیبات اور بحری جہازوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ان حملوں میں ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای اور متعدد سینئر سیاسی و فوجی قائدین کی ہلاکت کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے۔ اس کے جواب میں ایران اسرائیل اور خلیجی خطے میں امریکی مفادات پر میزائل اور ڈرون حملے کر رہا ہے۔

 

Ads