ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن نے ملک بھر میں عید کی نماز کے اجتماعات کی فوٹیج نشر کی، جہاں بڑی تعداد میں لوگوں نے عبادات میں شرکت کی۔ ایران میں عید الفطر کا پہلا دن ہفتے کو منایا گیا جبکہ دیگر بیشتر اسلامی ممالک میں ایک روز قبل عید منائی جا چکی تھی۔
وسطی تہران میں واقع جامع امام خمینی میں فجر کے بعد ہی نمازیوں کا بڑا ہجوم جمع ہونا شروع ہوگیا۔ رش کے باعث بڑی تعداد میں افراد نے مسجد کے باہر کھلے آسمان تلے نماز ادا کی۔ سرکاری میڈیا نے بمباری کے خدشات کے باوجود نمازیوں کی بڑی تعداد کے مناظر بھی دکھائے۔
رپورٹس کے مطابق تہران اور دیگر علاقوں میں امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے بعد سے فضائی کارروائیاں جاری ہیں۔ 28 فروری سے شروع ہونے والی اس جنگ میں اب تک کئی اعلیٰ ایرانی شخصیات ہلاک ہو چکی ہیں۔
فارس نیوز ایجنسی کے مطابق رات کے وقت ہونے والی فضائی کارروائیوں میں تہران کے مختلف علاقوں، مضافات اور اصفہان شہر کو نشانہ بنایا گیا۔
ایرانی ٹیلی ویژن نے دیگر شہروں میں بھی عید کے اجتماعات دکھائے، جن میں اراک، زاہدان اور عبادان شامل ہیں، جہاں عوام نے بڑی تعداد میں نماز ادا کی۔
دوسری جانب پاسداران انقلاب کے ترجمان علی محمد نائینی کا جنازہ بھی ہفتے کے روز ادا کیا گیا، جو ایک روز قبل اسرائیلی فضائی حملے میں ہلاک ہوئے تھے۔ سرکاری اور نیم سرکاری میڈیا نے نمازِ جنازہ کے مناظر نشر کیے۔
مہر نیوز ایجنسی کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی محمد نائینی جمعہ کی علی الصبح ہونے والے حملے میں مارے گئے، جبکہ تسنیم نیوز ایجنسی نے بھی پاسداران انقلاب کے بیان کے حوالے سے ان کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ انہیں ایک تجربہ کار کمانڈر قرار دیا جاتا تھا جنہوں نے چار دہائیوں سے زائد عرصے تک خدمات انجام دیں۔
