غیرملکی رپورٹ کے مطابق صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ جنگ کے لیے کسی مخصوص مدت کا تعین نہیں کیا گیا اور تمام امور پہلے سے طے شدہ منصوبے کے مطابق آگے بڑھ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کریں گے کہ جنگ کب ختم ہونی چاہیے اور کب یہ سمجھا جائے کہ مطلوبہ اہداف حاصل کر لیے گئے ہیں۔
پیٹ ہیگستھ کا کہنا تھا کہ 28 فروری سے ایران پر شروع ہونے والی کارروائیوں کے بعد سے امریکا کے اہداف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے اور حکمت عملی بدستور وہی ہے۔
امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) کے مطابق امریکہ اب تک ایران کے اندر سات ہزار اہداف کو نشانہ بنا چکا ہے، جبکہ بارودی سرنگیں بچھانے والے 40 سے زائد ایرانی جہازوں اور 11 آبدوزوں کو بھی تباہ کیا گیا ہے۔
وزیر دفاع نے واضح کیا کہ امریکی کارروائیوں کے اہداف وہی ہیں جو براہ راست صدر کی جانب سے متعین کیے گئے ہیں اور ان میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں ہوئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان اہداف میں ایرانی میزائل لانچنگ پیڈز، دفاعی صنعتی مراکز کو نشانہ بنانا، بحری صلاحیتوں کو کمزور کرنا اور تہران کو ایٹمی ہتھیاروں کے حصول سے روکنا شامل ہے، اور ان تمام مقاصد کی جانب پیش رفت جاری ہے۔
