Masarrat
Masarrat Urdu

وزیر اعظم مودی کی فرانس، اردن، عمان اور ملائیشیا کے رہنماؤں سے گفتگو، مغربی ایشیا میں جنگ روکنے اور امن پر زور

Thumb

نئی دہلی، 19 مارچ (مسرت ڈاٹ کام) وزیر اعظم نریندر مودی نے مغربی ایشیا میں جاری طویل جنگ اور اس سے پیدا ہونے والے چیلنجز کے پیش نظر جمعرات کے روز فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون، اردن کے شاہ عبداللہ دوم، عمان کے سلطان ہیثم بن طارق اور ملیشیا کے وزیر اعظم انور ابراہیم سے فون پر بات چیت کی اور خطے میں جنگ روکنے، مذاکرات کے ذریعے امن کی بحالی اور سفارت کاری کو ترجیح دینے کی ضرورت پر زور دیا۔

وزیر اعظم نے ان رہنماؤں کے ساتھ گفتگو میں اس بات پر زور دیا کہ مغربی ایشیا میں لڑائی کو فوری طور پر روکا جائے اور اس کے بعد امن و استحکام کی بحالی کے لیے مذاکرات اور سفارتی راستے کو ترجیح دی جائے۔ مسٹر مودی نے ان علیحدہ علیحدہ ٹیلیفونک گفتگوؤں کی تفصیلات سوشل میڈیا کے ذریعے شیئر کیں۔

فرانس کے صدر میکرون سے بات چیت کے حوالے سے وزیر اعظم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ''میں نے اپنے قریبی دوست، فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون سے مغربی ایشیا کی صورتحال، کشیدگی کم کرنے کی فوری ضرورت اور مذاکرات و سفارت کاری کی راہ پر واپس آنے پر بات کی۔'' انہوں نے مزید کہا کہ ''ہم خطے اور اس سے آگے بھی امن اور استحکام کے فروغ کے لیے قریبی ہم آہنگی جاری رکھنے کے پابند ہیں۔''

وزیر اعظم مودی نے اردن کے شاہ عبداللہ دوم کو فون پر عید کی پیشگی مبارکباد بھی دی اور مغربی ایشیا میں امن کی بحالی کے لیے بات چیت کے راستے پر زور دیا۔ انہوں نے ایک پوسٹ میں کہا کہ ''میں نے اپنے بھائی، اردن کے بادشاہ عبداللہ دوم کو فون پر عید کی پیشگی مبارکباد دی۔ ہم نے مغربی ایشیا کی بدلتی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا اور خطے میں امن، سلامتی اور استحکام کی جلد بحالی کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کی اہمیت پر زور دیا۔''

دونوں رہنماؤں نے مغربی ایشیا میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے غیر ضروری کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ وزیر اعظم مودی نے کہا کہ '' ہندوستان اور اردن اشیاء اور توانائی کی بلا رکاوٹ ترسیل کے حامی ہیں۔''

وزیر اعظم نے خطے میں پھنسے ہندوستانی شہریوں کی محفوظ واپسی کو یقینی بنانے میں اردن کی کوششوں کو بھی سراہا۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے اسی طرح عمان کے سلطان سے گفتگو کے بارے میں کہا ''میں نے اپنے بھائی، عمان کے سلطان ہیثم بن طارق سے بھی بامعنی گفتگو کی اور عمان کے عوام کو عید کی پیشگی مبارکباد دی۔''

دونوں رہنماؤں کے درمیان مغربی ایشیا کی صورتحال پر بھی تبادلۂ خیال ہوا۔ وزیر اعظم نے اپنی پوسٹ میں کہا کہ ''ہم اس بات پر متفق ہوئے کہ کشیدگی کم کرنے اور امن و استحکام کی بحالی کے لیے مکالمہ اور سفارت کاری کو ترجیح دی جانی چاہیے۔''

وزیر اعظم مودی نے کہا کہ ہندوستان نے عمان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی کی ایک بار پھر سخت مذمت کی ہے اور عمان میں مقیم ہندوسانی شہریوں سمیت دیگر غیر ملکیوں کی محفوظ واپسی کو یقینی بنانے کے لیے عمان کی کوششوں کو سراہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور عمان آبنائے ہرمز کے راستے محفوظ اور آزاد بحری آمد و رفت کے حامی ہیں۔''

 

وزیر اعظم مودی نے ملائیشیا کے وزیر اعظم انور ابراہیم اور وہاں کے عوام کو عیدالفطر کی دلی مبارکباد بھی پیش کی۔ دونوں رہنماؤں نے اپنی گفتگو میں مغربی ایشیا کی صورتحال پر تبادلۂ خیال کیا اور خطے میں کشیدگی کم کرنے اور جلد امن کی بحالی کے لیے مذاکرات کے راستے پر عمل کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

وزیر اعظم مودی نے کہا کہ ''ہم نے مغربی ایشیا کی سنگین صورتحال پر بھی بات کی اور مکالمہ و سفارت کاری کے ذریعے کشیدگی کم کرنے اور جلد امن بحال کرنے کے اپنے مشترکہ عزم کو دہرایا۔

مغربی ایشیا میں 28 فروری سے ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کے فوجی اقدامات کے بعد شدید جنگ جاری ہے، جس میں طیاروں، میزائلوں اور ڈرونز کا استعمال ہو رہا ہے۔ ایران کی فوج ان ممالک کے اقتصادی مراکز اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا رہی ہے جو امریکہ کو فوجی اڈے فراہم کر رہے ہیں۔

ایران نے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے راستوں کو بھی متاثر کیا ہے، جس کے باعث عالمی سطح پر تیل کی فراہمی متاثر ہوئی ہے اور خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

 

 

Ads