Masarrat
Masarrat Urdu

سوا لاکھ لوگوں نے پی این جی کا نیا کنکشن لیا، 5600 صارفین ایل پی جی سے پی این جی پر منتقل

Thumb

نئی دہلی، 19 مارچ (مسرت ڈاٹ کام) مشرقِ وسطیٰ کے بحران کے پیشِ نظر پائپ کے ذریعے گیس کی فراہمی کے لیے پی این جی کنکشن لینے کی حکومتی اپیل کا اثر ہوا ہے اور گزشتہ دو ہفتوں میں لوگوں نے تقریباً سوا لاکھ نئے پی این جی گھریلو، تجارتی اور صنعتی کنکشن لیے ہیں، جبکہ محض تین دنوں میں 5600 سے زائد صارفین نے ایل پی جی چھوڑ کر پی این جی کنکشن اپنا لیا ہے۔ حکومت نے ایل پی جی کے ذرائع میں تنوع لانے کے لیے امریکہ سے ایل پی جی لینا شروع کر دی ہے اور دیگر ممالک کے ساتھ بھی بات چیت جاری ہے۔

پٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت میں جوائنٹ سکریٹری سجاتا شرما نے مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر جمعرات کو بین وزارتی بریفنگ میں کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کی وجہ سے ایل پی جی کی صورتحال بدستور تشویشناک ہے، تاہم کسی بھی ڈسٹری بیوٹر سینٹر پر گیس سلنڈر کی کوئی کمی نہیں ہے۔ آن لائن بکنگ میں 94 فیصد تک اضافہ ہوا ہے اور 83 فیصد ری فل سپلائی کی ترسیل تصدیقی عمل کے ذریعے کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گھبراہٹ میں کی جانے والی بکنگ میں کمی آئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بدھ کے روز تقریباً 57 لاکھ ری فل بکنگ کی گئیں اور سلنڈر کی فراہمی معمول کے مطابق ہے۔

محترمہ سجاتا شرما نے واضح کیا کہ ملک میں خام تیل کی صورتحال اور ریفائنری آپریشنز معمول پر ہیں۔ ریٹیل پمپوں پر کسی قسم کی کمی کی اطلاع نہیں ہے اور تمام ریٹیل مراکز عام طور پر کام کر رہے ہیں۔ گھریلو پائپڈ قدرتی گیس (پی این جی ) اور نقل و حمل کے لیے کمپریسڈ نیچرل گیس (سی این جی ) کی 100 فیصد فراہمی بغیر کسی کٹوتی کے یقینی بنائی گئی ہے۔

جوائنٹ سکریٹری نے کہا کہ حکومت کی جانب سے صارفین کو زیادہ سے زیادہ پی این جی کنکشن لینے اور ایل پی جی سے پی این جی پر منتقل ہونے کی اپیل کا اثر ہوا ہے اور گزشتہ دو ہفتوں میں تقریباً سوا لاکھ نئے گھریلو، تجارتی اور صنعتی کنکشن فراہم کیے گئے ہیں۔ مزید برآں، گزشتہ تین دنوں میں 5600 سے زائد ایل پی جی صارفین پی این جی کنکشن میں منتقل ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تجارتی ایل پی جی کے سلسلے میں تقریباً 17 ریاستی حکومتوں نے ایلوکیشن آرڈرز جاری کر دیے ہیں۔ تمام ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کو سپلائی فراہم کر دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ تقریباً 15 ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں نے مٹی کے تیل (کیروسین) کے اضافی کوٹے کے احکامات بھی جاری کیے ہیں۔

افسر نے بتایا کہ سوشل میڈیا کے ذریعے ذخیرہ اندوزی اور بلیک مارکیٹنگ کی شکایات بھی موصول ہو رہی ہیں اور حکومت نے ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کو دوبارہ خط لکھ کر سخت کارروائی کرنے اور قانون کے تحت خلاف ورزی پر سخت سزا دینے کو کہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ موصولہ معلومات کے مطابق، تقریباً 31 ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں میں کنٹرول روم قائم کیے گئے ہیں اور 25 میں ضلعی سطح کی مانیٹرنگ کمیٹیاں بنائی گئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کئی ریاستوں میں چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ کل تقریباً 6000 چھاپے مارے گئے۔ اتر پردیش میں تقریباً 1100 چھاپے، تقریباً 1000 سلنڈر ضبط، 17 ایف آئی آر درج اور ایک گرفتاری ہوئی۔ مدھیہ پردیش میں 1632 چھاپے اور تقریباً 2500 سلنڈر ضبط کیے گئے۔ تلنگانہ میں تقریباً 1000 چھاپے اور 2300 سلنڈر ضبط کیے گئے۔ تیل کی مارکیٹنگ کمپنیاں بھی سرگرم ہیں اور کل تقریباً 2000 ریٹیل مراکز اور ڈسٹری بیوٹر سینٹرز کا معائنہ کیا گیا۔

محترمہ شرما نے کہا کہ حکومت نے گھریلو ایل پی جی اور پی این جی کو اولین ترجیح دی ہے۔ ساتھ ہی کیروسین اور کوئلے جیسے متبادل ایندھن کا بھی انتظام کیا گیا ہے۔ وزارتِ ماحولیات نے ریاستی حکومتوں اور آلودگی کنٹرول بورڈز کو ان متبادل ایندھن کے استعمال کی اجازت دینے کا مشورہ دیا ہے۔ وزارتِ کوئلہ نے کول انڈیا اور دیگر اکائیوں کو ریاستوں کو زیادہ مقدار میں کوئلہ فراہم کرنے کی ہدایت دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ خام تیل کی طرح اب ایل پی جی کی درآمد کے ذرائع میں بھی تنوع لایا جا رہا ہے، جس کے تحت امریکہ سے ایل پی جی لینا شروع کر دیا گیا ہے۔

 

Ads