وزیرِ کھیل احمد دنیامالی نے واضح کیا کہ امریکہ ایک "کرپٹ حکومت" ہے اور موجودہ حالات میں وہاں اپنی ٹیم بھیجنا ممکن نہیں ہے۔ "چونکہ اس حکومت (امریکہ) نے ہمارے لیڈر کو شہید کیا ہے، اس لیے ہم کسی بھی صورت ورلڈ کپ کا حصہ نہیں بن سکتے۔""ہمارے کھلاڑی وہاں محفوظ نہیں ہیں، اور اصولی طور پر شرکت کے لیے سازگار حالات موجود ہی نہیں ہیں۔" انہوں نے مزید کہا کہ ایران پر زبردستی جنگ مسلط کی گئی ہے جس میں ہزاروں افراد ہلاک اور زخمی ہو چکے ہیں۔دوسری جانب، فیفا کے صدر جیانی انفینٹینو نے سوشل میڈیا پر اطلاع دی ہے کہ ان کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات ہوئی ہے جس میں ورلڈ کپ کی تیاریوں اور ایران کی شرکت پر بات کی گئی۔
انفینٹینو کے مطابق، صدر ٹرمپ نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ ایرانی ٹیم کا ٹورنامنٹ میں خیر مقدم کیا جائے گا اور انہیں امریکہ میں کھیلنے کی مکمل اجازت ہوگی۔
ایران وہ پہلا ملک تھا جس نے 2026 کے ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کیا تھا، لیکن اب سیاسی اور جنگی حالات کی وجہ سے ان کی شرکت ختم ہوتی نظر آ رہی ہے۔
28 فروری سے جاری امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان تنازع نے خطے کے کھیلوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ ایرانی فٹبال فیڈریشن کے صدر مہدی تاج نے بھی گزشتہ ہفتے شک و شبہات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ "ایسے حالات میں کون اپنی قومی ٹیم کو وہاں بھیجنا چاہے گا؟ایران کی دستبرداری فیفا ورلڈ کپ2026 کے لیے ایک بڑا دھچکا ہو سکتی ہے، کیونکہ وہ ایشیا کی صفِ اول کی ٹیموں میں شمار ہوتا ہے۔
