تہران، 11 مارچ (مسرت ڈاٹ کام) ایران کی مجلس شوریٰ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے اس بات پر زور دیا ہے کہ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے مشترکہ طور پر شروع کی جنگ روکنے کےلیے اسلامی جمہوریہ ایران اس جنگ میں کسی قسم کی جنگ بندی کی کوشش نہیں کر رہا۔
محمد باقر قالیباف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر انگریزی میں جاری ایک بیان میں کہا کہ "ہم یقینی طور پر جنگ بندی کے خواہاں نہیں ہیں۔ جارح کو سزا ملنی چاہیے اور اسے ایسا سبق ملنا چاہیے جو اسے دوبارہ ایران پر حملہ کرنے سے باز رکھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل نے ایک شیطانی اور تکرار پر مبنی چکر چلا رکھا ہے جس میں پہلے جنگ، پھر مذاکرات، پھر جنگ بندی اور پھر دوبارہ جنگ کی جاتی ہے، ہم اس چکر کو توڑ دیں گے۔"
ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملے کے گیارہویں روز سپیکر قالیباف نے متنبہ کیا کہ ایران کے انفراسٹرکچر پر کسی بھی حملے کا ویسا ہی جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے ’ایکس‘ پر لکھا کہ دشمن جان لے کہ وہ جو کچھ بھی کرے گا، اس کا یقینی طور پر فوری اور برابر کا جواب دیا جائے گا۔
دوسری جانب ایرانی پاسداران انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ خطے میں امن اور استحکام یا تو سب کے لیے ہوگا یا پھر کسی کے لیے نہیں۔ پاسداران انقلاب نے اسرائیل اور امریکی اڈوں پر انتقامی حملوں کی 35 ویں لہر شروع کرنے کا بھی اعلان کیا۔ بیان میں کہا گیا کہ آج ہم بغیر کسی سمجھوتے یا استثناء کے 'آنکھ کے بدلے آنکھ اور دانت کے بدلے دانت' کے اصول پر لڑ رہے ہیں، اگر انہوں نے انفراسٹرکچر پر حملہ کیا تو ہم جواب میں ان کے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنائیں گے۔
اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے متنبہ کیا تھا کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی سپلائی میں خلل ڈالا تو امریکہ انتہائی شدید ردعمل دے گا۔ اپنی سوشل میڈیا ایپ 'ٹروتھ سوشل' پر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کی جانب سے تیل روکنے کی کسی بھی کوشش کا جواب ماضی کے مقابلے میں 20 گنا زیادہ سخت امریکی حملوں کی صورت میں دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایران نے تیل کی ترسیل روکی تو اس پر موت، آگ اور غصہ برسے گا اور امریکہ ایسے اہداف کو نشانہ بنا سکتا ہے جن کی تباہی کے بعد تہران کے لیے دوبارہ بحالی مشکل ہو جائے گی۔
ڈیٹا تجزیہ کار گروپس کے مطابق سنہ 28 فروری کو تہران پر شروع ہونے والے امریکی اور اسرائیلی حملوں کے جواب میں ایران کی جانب سے اس اہم آبی گزرگاہ کو بند کیے جانے کے بعد سے اب تک آبنائے ہرمز یا اس کے گردونواح میں تقریباً 10 جہازوں کو نشانہ بنایا جا چکا ہے۔ جنگ شروع ہونے کے بعد ایک ہفتے تک جاری رہنے والے ان حملوں کے باعث اس گزرگاہ سے جہازوں کی آمد و رفت تقریباً مکمل طور پر رک گئی ہے، جو تیل اور دیگر اشیاء کی نقل و حمل کے لیے ایک انتہائی اہم راستہ ہے۔
