Masarrat
Masarrat Urdu

مغربی ایشیا کی کشیدگی اور یوکرین کے بحران پر ٹرمپ اور پوتن کا تبادلہ خیال

  • 10 Mar 2026
  • مسرت ڈیسک
  • دنیا
Thumb

نئی دہلی، 10 مارچ (مسرت ڈاٹ کام) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے پیر کے روز روسی ہم منصب ولادیمپر پوتن سے ٹیلی فون پر گفتگو کی، جس کے بارے میں انہوں نے کہا کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن کے ساتھ ان کی بہت اچھی بات چیت ہوئی، جس کے دوران دونوں رہنماؤں نے یوکرین کے تنازعہ اور مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی پر تبادلہ خیال کیا۔

مسٹر ٹرمپ نے پیر کے روز بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے درمیان ٹیلیفون پر روس اور یوکرین کے درمیان جنگ سمیت متعدد عالمی مسائل پر بات ہوئی۔

مسٹر ٹرمپ نے کہا کہ "صدر پوتن کے ساتھ میری بہت اچھی بات ہوئی۔ ہم نے یوکرین کے بارے میں بات کی، جو کہ ایک نہ ختم ہونے والی لڑائی بن چکی ہے۔ اس کے بعد ہم نے مشرق وسطیٰ کے بارے میں بات کی، جس کے لیے انہوں نے مددگار بننے کی خواہش ظاہر کی۔ میں نے کہا، آپ یوکرین اور روس کی جنگ ختم کرکے زیادہ مددگار ہو سکتے ہیں۔ یہ زیادہ مددگار ثابت ہوگا۔"

انہوں نے مزید کہا کہ "وہ بہت تعمیری کردار ادا کرنے کے متمنی ہیں۔"

یہ ریمارکس وائٹ ہاؤس کے آفیشل یوٹیوب چینل پر کیے گئے ہیں۔

اس سے پہلے مسٹر ولادیمیر پوتن نے ماسکو میں تیل اور گیس کی عالمی منڈی کی صورتحال اجلاس کی صدارت کی، جہاں انہوں نے خبردار کیا کہ مغربی ایشیا کو غیر مستحکم کرنے کی کوششوں سے توانائی کے عالمی شعبے پر شدید اثر پڑ سکتا ہے۔

روس کی خبر رساں ایجنسی اسپوتنک نیوز کے مطابق، مسٹر پوتن نے کہا کہ اس طرح کی پیش رفت سے تیل اور گیس کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں اور عالمی سپلائی میں خلل پڑ سکتا ہے۔

روسی رہنما نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کی غیر مستحکم صورتحال سے لامحالہ ایندھن اور توانائی کے عالمی شعبے خطرے میں پڑیں گے، تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہو گا، دنیا بھر میں ان وسائل کی سپلائی محدود ہوجائے گی اور بلا شبہ طویل مدتی سرمایہ کاری کے منصوبے متاثر ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ 2025 میں دنیا کی سمندری تیل کی برآمدات کا تقریباً ایک تہائی حصہ آبنائے ہرمز سے گزرا، جس سے یہ خطہ عالمی توانائی کی فراہمی کے لیے اہم شمار کیا جاتا ہے۔

مسٹر پوتن نے یہ بھی متنبہ کیا کہ اگر عدم استحکام مزید اضافہ ہوا تو خلیج فارس میں تیل کی پیداوار ایک ماہ کے اندر مکمل طور پر رک سکتی ہے، انہوں نے مزید کہا کہ پیداوار میں پہلے ہی کمی آنا شروع ہو چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ ہفتے کے دوران عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں 30 فیصد سے زیادہ کا اضافہ ہوا ہے، قیمتیں اب 119 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہیں جبکہ اس سے قبل یہ قیمتیں 107 ڈالر تک تھیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ گیس کی عالمی قیمتیں بھی تیل کی بہ نسبت تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔

مسٹر پوتن نے یہ بھی کہا کہ روس ایشیا پیسیفک خطے اور مشرقی یورپی ممالک سلوواکیہ اور ہنگری کے 'قابل اعتماد شراکت داروں' کو ایندھن فراہم کرنے کا سلسلہ جاری رکھے گا۔

 

 

Ads