دمشق، 10 مارچ (مسرت ڈاٹ کام) شام کے عبوری صدر احمد الشرع نے پیر کے روز لبنانی حکومت کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے تاکہ لبنانی حکومت حزب اللہ کو غیر مسلح کر سکے۔ اس حمایت کا اعلان انہوں نے لبنانی ہم منصب جوزف عون سے گفتگو میں کیا ہے۔
شام اور لبنان کے درمیان تعاون کی یہ پیش رفت اس سلسلے میں ہوئی ہے کہ ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے مسلط کردہ جنگ دو مارچ سے پورے خطے میں پھیل جانے کی شروعات سامنے آئیں۔
اس جنگ کے پہلے ہی روز ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کو بمباری کر کے قتل کر دیا گیا، ان کے قتل کی خبر کی تصدیق ایرانی حکومت نے یکم مارچ کو کی اور اس کے بعد ایران نے علاقے میں امریکی و اسرائیلی اہداف کو نشانہ بنانا شروع کر دیا۔
اسرائیل نے بھی ایران میں 2 مارچ سے وسیع پیمانے پر بمباری کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ اس سلسلے میں اسرائیل کی طرف سے لبنان پر مسلسل فضائی حموں کے علاوہ زمینی مداخلت بھی بڑھا دی گئی ہے۔
لبنانی وزارت صحت کے مطابق اب تک اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 486 لبنانی ہلاک کیے جا چکے ہیں۔
اس امر کا اظہار شام کے صدر احمد الشرع نے یورپی یونین کے حکام کے ساتھ ویڈیو کانفرنس میں شرکت کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا ہے۔
شامی صدر نے کہا ہم حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کی لبنانی مہم کے لیے صدر جوزف عون کے ساتھ کھڑے ہیں۔ خطے میں پیدا اس نئی صورت حال میں شامی صدر نے لبنان اور عراق کے ساتھ جڑی سرحدوں پر فوجیوں کی تعیناتی میں اضافہ کر دیا ہے۔ یہ بات شامی حکومت نے 'اے ایف پی' کو بتائی ہے۔
صدر احمد الشرع کا کہنا ہے ہم نے احتیاطی تدابیر کے طور پر اپنی دفاعی فورسز کی نئے سرے سے تعیناتی کر دی ہے۔ تاکہ شامی سرزمین کی طرف بڑھنے والے کسی خطرے کے پیشگی سد باب کا اہتمام ہوسکے۔
پیر ہی کے روز لبنانی صدر جوزف عون نے حزب اللہ پر الزام لگایا ہے کہ وہ لبنان کی تباہی چاہتی ہے۔ جیسا کہ اس نے اسرائیل کے خلاف راکٹ حملے کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یاد رہے ایرانی حمایت یافتہ حزب اللہ شام کی سابقہ بشارالاسد رجیم کی اتحادی رہی ہے۔ بشارالاسد کی حکومت کا تختہ 8 دسمبر 2024 کو الٹ دیا گیا تھا۔
